حیات قدسی

by Other Authors

Page 628 of 688

حیات قدسی — Page 628

۶۲۸ قرآن کریم سے خدا تعالیٰ کی قولی کتاب مراد ہے اور لوح محفوظ سے اس کی فعلی کتاب مراد ہے یعنی قرآن کریم کی تعلیمات اور احکام قانون نیچر کے عین مطابق ہیں اس لئے یہ محفوظ اور قائم رہے گا نمونہ کے طور پر ہر حافظ قرآن کی قوت حافظہ بھی ایک اعتبار سے لوح محفوظ ہے اور اسی قوت حافظہ کی مدد سے وہ قرآن کریم کے الفاظ کو محفوظ رکھتا ہے اور تلاوت کرتا ہے۔پھر قرآن کریم کی کتابت اور طباعت کے ذریعہ بھی قرآن کریم کو بین الدفتين محفوظ کیا جاتا ہے۔اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خلفاء اور اولیاء مجد دینِ امت کا متواتر سلسلہ ہے۔جن کے قلوب اور صدور میں روح القدس کے انوار سے قرآن کریم کے معارف اور حقائق محفوظ رہتے ہیں۔یہ مطہر قلوب اور صدور بھی لوح محفوظ کا حکم رکھتے ہیں اور یہ سلسلہ دائمی اور قیامت تک جاری ہے۔ق وَالقُرآنِ الْمَجِيدِج ایک دفعہ خاکسار مسجد احمد یہ پشاور میں قرآن کریم کا درس دے رہا تھا کہ ایک صاحب نے سوال کیا کہ ق وَالقُرْآنِ الْمَجِيدِ 100 کا کیا مطلب ہے اور ق کا قرآن مجید سے کیا تعلق ہے اس وقت معاً میرے دل میں القا ہوا کہ ابجد کے حساب سے ق کے سوعدد ہوتے ہیں اور اس آیت سے اس طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ ہر سو سال کے بعد یعنی صدی کے سر پر خدا تعالیٰ تجدید دین کا ایسا سلسلہ جاری کرے گا جس سے قرآن کریم کی مجد اور بزرگی ظاہر ہوگی اور ہر سو سال کے بعد کامل مجددین کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ایسے نشانات اور منجزات اور نئے علوم ظاہر کرے گا جو قرآن کی شان کو بلند کرنے والے ہوں گے اور یہ سلسلہ قیامت تک ممتد ہو گا۔”ق“ سے مراد قیامت بھی لی جاتی ہے۔یعنی ایسی قیامت جو خدا تعالیٰ کے مرسلوں اور ماموروں کے ذریعہ قائم ہوتی ہے اور جس سے مردہ قوموں میں حیات نوسرایت کرتی ہے۔سیدنا ومولانا حضرت سرور کائنات محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ بھی ایسی قیامت کا ظہور ہوا آپ نے خود فرمایا ہے کہ أَنَا الْحَاشِرُ الَّذِي يُحْشَرُ النَّاسُ عَلَى قَدَمِي 10 - یعنی میں حاشر ہوں جس کی اطاعت کے ذریعہ سے روحانی مردے زندہ ہوں گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری بعثت یعنی حضرت مسیح