حیات قدسی — Page 627
۶۲۷ با وجو د اس کے کہ شیبہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ تعالیٰ کی ہے لیکن میرے ذہن میں یہی خیال راسخ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدوس ہستی سامنے نظر آ رہی ہے اور میں اللہ تعالیٰ کی ہستی کے تصور سے با حساس عظمتِ شانِ الوہیت اللہ تعالیٰ کے حضور سر بسجو د ہو جاتا ہوں۔جب کچھ دیر کے بعد میں سجدہ سے سراٹھانے لگا۔تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص میرے بائیں پہلو میں بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہے۔جب میں نے سجدہ سے سر اٹھایا تو اس شخص نے بھی میرے ساتھ سر اٹھایا۔اور مجھے معلوم ہوا کہ یہ دوسرا شخص جناب سیٹھ عبداللہ الہ دین صاحب تھے۔اس کے بعد نظارہ بدلا اور میں نے دیکھا کہ ہم دونوں عرشِ مجید سے سیڑھیوں کے ذریعہ زمین کی طرف نیچے اتر رہے ہیں اس حالت میں سیٹھ صاحب بار بار یہ الفاظ اونچی آواز سے کہہ رہے ہیں۔قادر ہے وہ بارگہ جو ٹوٹا کام بناوے“ یہ الفاظ سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے الہامی شعر کا ایک مصرعہ ہیں ہیں اور گو اس کا کے دوسرے مصرعہ میں انذاری پہلو پایا جاتا ہے لیکن حضرت سیٹھ صاحب اس وقت مندرجہ بالا الفاظ ہی دوہرا ر ہے تھے۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے جناب سیٹھ صاحب کی حالت کو بدل کر ان کے لئے مالی وسعت کے سامان پیدا فرمائے۔وَهُوَ عَلَىٰ كُلَّ شَيْءٍ قَدِيرٌ لوح محفوظ ایک مجلس میں کسی صاحب نے بعض علماء سے لوح محفوظ کے متعلق دریافت کیا اس کے جواب میں ایک غیر احمدی عالم نے کہا کہ لوح محفوظ عرش و کرسی کے اوپر ایک سختی ہے جس پر جو کچھ ہو چکا اور جو کچھ آئندہ ہو گا وہ سب کچھ محفوظ ہے۔یہ جواب سن کر ایک صاحب نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ آپ لوحِ محفوظ کے متعلق کچھ کہئے۔میں نے عرض کیا کہ قرآن کریم کی سورۃ بروج میں اللہ تعالی نے فرمایا ہے کہ بَلْ هُوَ قُرَانٌ مَّجِيدٌ فِى لَوْحٍ مَّحْفُوظ 102 یعنی کا فرلوگ جو قرآن کریم کی تکذیب کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا کا کلام نہیں بلکہ افترا ہے اور تقول کے طور پر پیش کیا گیا ہے اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ کافروں کا الزام درست نہیں۔قرآن کریم تو بزرگ شان را والا اور پڑھنے کے قابل ہے اور اس کا لوحِ محفوظ ہونا اس کی شان اور بزرگی کو ظاہر کرتا۔د تذکره ص ۲۶۵ طبع ۲۰۰۴ء