حیات قدسی — Page 607
۶۰۷ سکتا اس لئے النبی کے لفظ کے بطن میں جب امت داخل ہے تو آل محمد جو نبی کے سچے وارث اور اس کی امانت کے بچے حامل ہیں کیوں داخل نہ ہوں اور جب النبی اپنے اغراض و مقاصد کی تکمیل کے لئے امت کے انصار کی دعا اور درود شریف کی نصرت کا مقتضی ہے تو آل نبی اور آل محمد جو محمد رسول اللہ کے اغراض و مقاصد کی تکمیل کی غرض سے ہی حامل امانت کی حیثیت میں کام کرنے والے ہیں ان کو کیوں اس درود شریف میں شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا النبی کے لفظ کی تشریح اور توضیح میں درود شریف میں محمد اور آل محمد کے الفاظ کو پیش کرنا عین حکمت اور ضرورت کے اقتضاء کے ماتحت ہے اور تفسیر کے لحاظ سے نہایت ہی صحیح اور بہترین تفسیر لفظ النبی کی فرمائی گئی ہے۔ایک سوال کا جواب ہاں یہ امر کہ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ الحَ کے الفاظ پڑھنے کی ضرورت کیوں اور کہاں سے پیدا کی گئی۔سو اس کے جواب میں یہ عرض ہے کہ حضرت ابرا ہیم علیہ السلام نے دعا فرمائی تھی رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةٌ لَّكَ 90 اور ساتھ ہی یہ دعا کی تھی کہ رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايْتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمُ۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا جیسے ہم دونوں یعنی ابراہیم اور سمعیل (علیہما السلام ) تیرے خادم اور دینِ حنیف کی اشاعت و حمایت کرنے والے ہیں۔اسی طرح اس دین کی خدمت اور اشاعت کے لئے ہماری ہی اولاد اور ذریت سے ایک امت مسلمہ بنانا اور اس میں ایک ایسا رسول بھی مبعوث فرمانا جو تیری آیات ان پر تلاوت کرے اور انہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو اعتقادی اور عملی اور حالات کے لحاظ سے پاک کرے۔یہ وہ دعا ہے جس کے اثر اور نتیجہ کے ماتحت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ظہور میں آئی اور اسی کے ماتحت آپ کی امت جو امت مسلمہ ہے ظہور پذیر ہوئی۔پس حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی اس دعا سے آپ کو یہ برکت ملی کہ آپ کے برکات کا سلسلہ اور آپ کی ذریت اور اولاد کی برکات کا سلسلہ علی الدوام قیامت تک کے لئے لمبا کیا گیا۔جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق دوسرے مقام میں بھی اس بات کا بطور برکت ذکر فرمایا۔کہ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ