حیات قدسی

by Other Authors

Page 606 of 688

حیات قدسی — Page 606

شاقہ کے ہلاکت میں ڈالے ہوئے تھے۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ان شفقتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اور آپ کی محسنانہ اور کریمانہ عنائتوں اور مہربانیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ پر درود شریف پڑھتے وقت آپ کے مقاصد کی تکمیل کے لئے دعائیں کرنا چاہیئے۔اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کا درود اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کا درود مومنوں سے الگ حیثیت رکھتا ہے اور وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ اور ملائکہ کا در و دصفت رحمانیت کے افاضہ کے رنگ میں بلا محنت بلا کسی معاوضہ ومبادلہ کے پیش ہوتا ہے لیکن مومنوں کا درود ایک دعا اور روحانی مجاہدہ اور کوشش ہے جس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بطور معاوضہ صفت رحیمیت کے افاضہ کے ماتحت فیضان نازل ہوتا ہے اس طرح سے آنحضرت صلم کو صفت رحمانیت اور صفت رحیمیت دونوں قسموں کے فیضان کا مورد بنایا جاتا ہے ہاں یہ دوسری بات ہے کہ مومن اپنی نیت اور عرفانی وسعت سے اپنے درود میں اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کے درود بلکہ جمع انبیاء و مومنین کے برکات دعا اور انعامات و دعوات کو بھی شامل کر کے دعا کرے اور اس طرح کی دعا کے وسیع دائرہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے استفاضہ کے دائرہ کو وسعت دے اور اپنے درود میں صفت رحمانیت اور رحیمیت کے فیوض کو جمع کر کے جامع حیثیت میں پیش کرے۔التنمی اور آل کا لفظ صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلَّمُوا تَسْلِيمًا کے ارشاد میں صرف النبی کا لفظ لایا گیا حالانکہ درود شریف میں آل کا لفظ پیش کیا گیا ہے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے البنی کی تشریح لفظ محمد اور آل محمد سے فرمائی ہے اور اس لئے کہ نبوت کے لحاظ سے اگر چہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم قیامت تک کے لئے نبی تھے لیکن شخصی حیثیت سے جب آپ تریسٹھ سال کی عمر تک پہنچ کر دنیا سے رحلت فرما گئے تو شخصی وجود کی عدم موجودگی میں آپ کی قائم مقامی میں آل محمد ہی کام کر سکتی تھی اور آل محمد سے مراد آپ کی امت کے صدیق ، شہید ، صالح اور خصوصاً امت کے مجددین جو عــلــمــاء امتــی کـانبیاء بـنـي اسرائیل 89 کے مصداق ہیں اور خلفائے راشدین مہد بین ہیں اور چونکہ نبی بغیر امت کے نہیں ہو