حیات قدسی

by Other Authors

Page 45 of 688

حیات قدسی — Page 45

۴۵ سکتے ہیں لیکن ایمان اور پاس اکٹھے نہیں ہو سکتے۔اس لئے آپ نا امید نہ ہوں اور ا بھی پیالہ میں تھوڑا سا پانی منگا ئیں میں آپ کو دم کر دیتا ہوں۔چنانچہ اسی وقت انہوں نے پانی منگایا اور میں نے خدا تعالیٰ کی صفت شافی سے استفادہ کرتے ہوئے اتنی توجہ سے اس پانی پر دم کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ کی اس صفت کے فیوض سورج کی کرنوں کی طرح اس پانی میں برستے ہوئے نظر آئے۔اس وقت مجھے یقین ہو گیا کہ اب یہ پانی افضال ایزدی اور حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی برکت سے مجسم شفا بن چکا ہے۔چنانچہ جب میں نے یہ پانی چوہدری اللہ داد کو پلایا تو آن کی آن میں دمہ کا دورہ رک گیا اور پھر اس کو کے بعد کبھی انہیں یہ عارضہ نہیں ہوا حالانکہ اس واقعہ کے بعد چوہدری اللہ داد تقریباً پندرہ سولہ سال تک زندہ رہے۔اس قسم کے نشانات سے اللہ تعالیٰ نے چوہدری صاحب موصوف کو احمدیت بھی نصیب فرمائی اور آپ خدا کے فضل سے مخلص اور مبلغ احمدی بن گئے۔الحمد للہ علی ذالک دست غیب ایسا ہی ایک موقع پر چوہدری اللہ داد صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ یہ جو دست غیب کے متعلق مشہور ہے کہ بعض وظائف یا بزرگوں کی دعا سے انسان کی مالی امداد ہو جاتی ہے کیا یہ صحیح بات ہے۔میں نے کہا کہ ہاں بعض خاص گھڑیوں میں جب انسان پر ایک خاص روحانی کیفیت طاری ہوتی ہے تو اس وقت کی اس کی تحریری یا تقریری دعا باذن اللہ یقیناً حاجت روائی کا موجب ہو جاتی ہے۔میری یہ بات سن کر چوہدری اللہ داد کہنے لگے تو پھر آپ مجھے کوئی ایسی دعا یا عمل لکھ دیں جس سے میری مالی مشکلات دور ہو جائیں۔میں نے کہا کہ اچھا اگر کسی دن کوئی خاص وقت اور گھڑی میسر آ گئی تو انشاء اللہ میں آپ کو کوئی دعا لکھ دوں گا۔چنانچہ ایک دن جب افضال ایزدی اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے مجھے روحانی قوت کا احساس اور قوت مؤثرہ کی کیفیت کا جذ بہ محسوس ہوا تو میں نے حسب وعدہ چوہدری اللہ داد کو ایک دعا لکھ دی جس کے الفاظ غالبا اللھم اکفنی بحلالک عن حرامک و اغنني بفضلك عمن سواک تھے اور تلقین کی کہ وہ اس دعا کو ہمیشہ اپنے پاس رکھیں۔چنانچہ انہوں نے اسی وقت اس دعا کو اپنی پگڑی کے ایک گوشہ میں باندھ کر محفوظ کر لیا۔خدا کی حکمت ہے کہ میرے مولا کریم نے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے طفیل اس وقت اس ناچیز