حیات قدسی

by Other Authors

Page 530 of 688

حیات قدسی — Page 530

۵۳۰ ۶۰ فکسرت بالضرب الشديد خداعه بعضب الصداقة هازم الزور مــردفي ۶۱ و اني لسرحوب تأسّد بالهوى يقابل ضِرغاما له صرع متلف ۲۲ اخاطب ابراهیم هات قصيدة كنظمى فألاهَب وجوم التخلف ۶۳ فاطلب منک نظیرها متحديًا فلا تدبرن کمشمت و مجوف ۲۴ و ان تاتنى بالنظم مثل قصیدتی فاکسر اقلامي لمثلك بالدف ۶۵ ویاتی زمان یکشفنّ حقيقة لمجد الصدوق وذلّة المتصلف ۶۶ فتعلم ایک ساهف بتخيب فتزهق نفسك حسرة بالتأسف ۶۷ و انا کسرنا مرقما لك حجّة فان كنت تقدر فاكتبن لا تغيف ۶۸ وان تعجزن عما طلبنا فعبرة لمثلك مما قمت كالمتصلّف ۹ وائـــي غــلام لـلــرســول محمد وخادم احــمــد حـفـنـي بـالـعــارف واخر دعوانا ان الحمد كلّه لربّ الخلائق كلها كالمحفّف اس قصیدہ کے کل ۸۲ - اشعار تھے اس وقت بخوف طوالت ستر اشعار لکھے گئے ہیں۔اصل ٹریکٹ میں اشعار کا ترجمہ بھی دیا گیا تھا جو اس وقت چھوڑ دیا گیا ہے یہ اشتہار اور ٹریکٹ اخبار فاروق میں بعد میں شائع ہو گیا تھا۔ذکر محاسن حضرت میر محمد اسمعیل صاحب محمد حضرت میر محمد اسمعیل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات پر خاکسار نے ایک مرتبہ فارسی زبان میں لکھا تھا جس کے ساٹھ کے قریب اشعار تھے ان میں سے بعض اشعار بطور نمونہ درج ذیل کئے جاتے ہیں :۔میر صاحب محمد اسمعیل آنکہ مے بود ہمچو ابن خلیل آنکه سید بسند وی نبی از بنی فاطمه شریف و وصف در بیاں نمی گر بیانش کنیم نبیل التفصيل فطرتش فطرت ہمہ ابرار ذات او متصف بوصف جمیل