حیات قدسی

by Other Authors

Page 495 of 688

حیات قدسی — Page 495

۴۹۵ یعنی اے اللہ ان بیعت کرنے والوں کو بخش دے اور ان پر رحم فرما۔اور ان کو ایمان میں ثابت قدمی عطا فرما۔آمین بیعت کے بعد سید نا حضرت اقدس علیہ السلام کی تو جہات کریمانہ، دعوات خاصہ اور انفاس قدسیہ کی برکت سے میری محجوبانہ حالت اصلاح پذیر ہوتی گئی۔اور میری حالت جو مردہ زمین کی طرح تھی۔آسمانی بارش سے اس میں قوت نامیہ پیدا ہوگئی۔اور اللہ تعالیٰ نے مجھے حقیر پر اپنے فضل و کرم اور نورو برکت کی بے شمار بارشیں نازل کیں۔فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى نَوَالِهِ بلدہ سہسرام میں توحید الہی پر تقریر ایک عرصہ کی بات ہے کہ ایک تبلیغی وفد جو حضرت علامہ مولوی محمد سرور شاہ صاحب و حضرت علامہ حافظ روشن علی صاحب اور خاکسار پر مشتمل تھا۔مختلف مقامات سے گذرتے ہوئے سہسرام شہر میں پہنچا۔اس شہر میں شیر شاہ سوری کا عظیم الشان مقبرہ ہے۔شاہی مسجد میں ہماری تقریر کا انتظام کیا گیا۔مجھے توحید باری تعالیٰ کے موضوع پر تقریر کرنے کے لئے ارشاد فرمایا گیا۔میں نے آیت فَاذْكُرُوا اللَّهِ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَ كُمُ اَوْ اَشَدَّ ذِكْرًا یعنی ” خدا تعالیٰ کو اس طرح یاد کرو جس طرح تم اپنے باپوں کو یاد کرتے ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے لئے غیرت کا جذبہ رکھتے ہوئے اس کا ذکر کیا کرو“ سے استدلال کرتے ہوئے تفصیل سے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی تو حید کا مسئلہ سمجھانے کے لئے باپ اور بیٹے کے رشتہ کی مثال بیان کی ہے۔بیٹا ہمیشہ موحد ہوتا ہے۔کیونکہ وہ اپنے لئے ایک ہی باپ میں اپنی اور اپنی ماں کی عزت سمجھتا ہے۔اور اپنے باپ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے کو اپنے لئے اور اپنی والدہ کے لئے باعث تو ہین اور بہتک سمجھتا ہے۔اسی طرح عورت کے لئے شوہر بھی ایک ہی ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے فَاذْكُرُوا اللَّهِ كَذِكُرِكُمْ آبَاءَكُمْ کے ارشاد میں اسی طرح کی غیرت اپنے متعلق پیش کی ہے۔کہ انسان جس طرح اپنے باپ کو واحد قرار دینے میں اپنی عزت سمجھتا ہے۔اسی طرح وہ اپنے اللہ کو بھی ایک ہی قرار دے۔اور اس کی توحید میں ہی اپنی سب عزت سمجھے بلکہ باپ سے بھی بڑھ کر اپنے خدا کی توحید کے لئے غیرت دکھانے والا ہو۔کیونکہ باپ مخلوق ہے۔اور