حیات قدسی — Page 34
۳۴ حضرت میاں صاحب کے ارشاد گرامی کے بعد جب میں نے لوگوں سے پوچھا کہ بتاؤ اب تمہاری کیا مرضی ہے۔تو اسی وقت بعض بد بختوں نے کہا کہ شیطان نے بلعم باعورا ایسے ولی کا ایمان چھین لیا تھا۔حضرت میاں علم الدین صاحب کس شمار میں ہیں۔اس کے بعد میں نے حضرت میاں صاحب موصوف کی بیعت کا خط لکھ دیا اور وہ بزرگ جولوگوں کے زعم میں اپنے زمانہ کا غوث تھا حضور اقدس علیہ السلام کے سلسلۂ بیعت میں داخل ہو گیا۔پھر اس کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے میرے والد بزرگوار کے چھوٹے بھائی حضرت حافظ نظام الدین صاحب بھی احمدی ہو گئے۔چنانچہ یہ دونوں بھائی یکے بعد دیگرے قادیان بھی تشریف لے گئے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی دستی بیعت سے مشرف ہوئے۔الحمد للہ علی ذالک ہمارے ان بزرگوں کی بیعت سے پہلے میرے ایک عم زاد بھائی میاں غلام حیدر صاحب جو میرے شاگر د بھی تھے احمدی ہو چکے تھے۔اگر چہ ان کی احمدیت پر ہماری برادری کے لوگ ہمیشہ انہیں گزند پہنچایا کرتے تھے اور ان کی فصلیں وغیرہ کاٹ لیتے یا ان کے کھیتوں میں اپنے مویشی چھوڑ دیا کرتے تھے۔مگر یہ صالح نوجوان عمر بھر احمدیت کا فدائی اور جاں نثا ر رہا۔افسوس ہے کہ اس کی عمر نے زیادہ عرصہ وفا نہ کی اور وہ ۱۳۲۳ھ میں اس دنیائے فانی سے کوچ کر گیا۔ایسا ہی عموی صاحب حضرت حافظ نظام الدین صاحب بھی جلد ہی ۱۳۱۷ھ میں اپنے مولائے حقیقی سے جاملے۔ان کی فوتیدگی پر بعض لوگوں کو منذ ر خوا ہیں آئی تھیں اور میں نے بھی خواب میں دیکھا تھا کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ہمارے گاؤں میں تشریف لائے ہیں اور حضور کے ساتھ ایک جماعت ہے۔میں نے حاضر ہو کر جب تشریف آوری کی وجہ دریافت کی تو حضور اقدس نے فرمایا کہ ہم حافظ نظام الدین صاحب کا جنازہ پڑھنے کے لئے آئے ہیں۔انا للہ و انا الیه راجعون۔خدا کا شکر ہے کہ حضرت حافظ نظام الدین صاحب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں خدا تعالیٰ نے عزیز القدر میاں غلام علی صاحب سابق صدر جماعت احمد یہ سعد اللہ پور کو بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صحابیت سے نوازا اور وہ اپنے بزرگ اور خدا یاد والد کے نعم الخلف ثابت ہوئے۔اب وہ تقریباً تین سال کا عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں مگر اپنے حسین حیات تک تقویٰ و طہارت اور احمدیت میں نمونہ کے انسان تھے۔اپنی زندگی کا اکثر حصہ محکمہ تعلیم کی ملازمت کے سلسلہ میں موضع سعد اللہ پور میں ہی گزارا ہے مگر کبھی کبھار آپ