حیات قدسی

by Other Authors

Page 418 of 688

حیات قدسی — Page 418

۴۱۸ کے بعد مجھے ملے اور کہنے لگے کہ آپ کی تعبیر بالکل درست نکلی۔مجھے اس طرح محکمانہ افسر نے بطور جرمانہ وسزا کے میری تنخواہ میں سے دو روپیہ ماہوار کم کر دیئے لیکن دورہ سے واپسی پر جب پھر اس کے افسر سے ملاقات ہوئی اور میں نے معافی چاہی تو انہوں نے مجھے معاف کر دیا اور آئندہ احتیاط کرنے کی تاکید کی۔تمام احباب مجلس نے اس تعبیر کے صحیح ہونے پر خوشی کا اظہار کیا اور بعض نے دریافت کیا کہ دانتوں کے گرنے کی تعبیر تو عام طور پر رشتہ داروں کی موت ہوتی ہے۔آپ نے بجائے موت کے جرمانہ کی رقم کس طرح سمجھی۔میں نے عرض کیا کہ بعض حالات میں دانتوں کے گرنے سے رشتہ داروں کے مرنے کی تعبیر بھی کی جاتی ہے۔لیکن مدرس صاحب کے والدین تو فوت ہو چکے تھے۔اور ان کے بیوی بچے بھی نہ تھے۔بلکہ وہ اکیلے ہی تھے۔اور معلم اور مدرس کی حیثیت سے برسر روزگار تھے۔چونکہ کھانا منہ اور دانتوں سے کھایا جاتا ہے۔اور جس طرح رزق کھانے میں منہ اور دانت مدد دیتے ہیں۔اسی طرح منہ اور دانتوں کے ذریعہ سے مدرسہ میں تعلیم دینے سے تنخواہ بھی حاصل ہوتی ہے۔لہذا میرے ذہن میں یہ تعبیر آئی کہ اوپر کے دانتوں میں سے دو کا گرنا۔دو روپیہ کا تنخواہ میں تنزل ہے۔اور پھر دانتوں کا اپنی جگہ پر لگ جانا بحالی کی علامت ہے۔چنانچہ اس تعبیر کے مطابق ہی وقوع میں آیا۔فالحمد للہ علی ذالک عشق مجازی و حقیقی جن دنوں خاکسار بوجہ علالت حضرت خلیفة المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ارشاد پر علاج کے لئے دارالامان میں مقیم تھا۔اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مہمان خانہ میں ہی رہتا تھا اور علاوہ بعض دوسرے بزرگان اور احباب کے حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر دوسرے تیسرے دن میرے پاس عیادت کے لئے تشریف لاتے۔اور گھنٹہ گھنٹہ اور کبھی گھنٹہ سے بھی زائد خاکسار کے پاس تشریف رکھتے۔اس وقت میں مجھ سے کئی واقعات اور حالات سنتے بھی اور سناتے بھی۔ایک دفعہ آپ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے سنی ہوئی یہ