حیات قدسی

by Other Authors

Page 387 of 688

حیات قدسی — Page 387

۳۸۷ پڑھ کر عرض کرتا ہوں کہ منصب امامت کا عطا کرنا تو اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔اس وقت جب میں نے زیادہ توجہ سے دیکھا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جگہ مجھے سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نظر آئے۔دوسرے دن جلسہ سالانہ میں حضرت سید نا خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا پُر معارف لیکچر جو عرفان الہی کے موضوع پر تھا، ہوا۔نماز ظہر وعصر کے بعد حضور کا لیکچر شروع ہوا۔اور عشاء کے وقت تک جاری رہا۔جب تقریر ختم ہوئی تو حضور نے اونچی آواز سے میرا نام لے کر ارشا د فر مایا کہ مولوی غلام رسول صاحب را جیکی نماز مغرب و عشاء پڑھا ئیں لیکن لوگ تھکے ہوئے ہیں اس لئے نماز مختصر پڑہائی جائے۔چنانچہ خاکسار نے حضور کے ارشاد کے ماتحت ہزار ہا کے مجمع کو نماز مغرب و عشاء پڑھائی اور اس طرح حضور کی نیابت میں مجھے امامت کرانے کا موقع ملا۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہر الہامی کلام اپنے محل ورود اور محل مصداق کے لحاظ سے اور دائرہ عمل کے اعتبار سے مختلف حیثیتوں میں ظہور پذیر ہوتا ہے۔جیسا کہ رات کے وقت بحالت رؤیا انسٹی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ اِمَامًا کا جو فقره الہاما میری زبان پر جاری فرمایا گیا۔اس کا مطلب صرف جلسہ کے حاضرین کی امامت کرانا تھا۔لیکن یہی الہام جب حضرت ابراہیم خلیل اللہ اور حضرت ابراہیم ثانی مسیح موعود علیہما السلام پر نازل ہوا تو اس کا ظہور بلحاظ وسعت مکان و زمان و افراد و اقوام بہت ہی وسیع رنگ رکھتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب الهدى وتبصرة لمن يرى میں بھی اس بارہ میں تشریح فرمائی ہے۔اور تحریر فرمایا ہے کہ بادشاہ اور معمولی فرد کی ایک ہی رؤیا کی تعبیر مختلف ہوتی ہے۔اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سید نا حضرت المصلح الموعودایدہ اللہ تعالیٰ کے بظاہر معمولی واقعات اور حالات بھی بسا اوقات اللہ تعالیٰ کی خاص مشیت اور تصرف کے ماتحت وقوع میں آتے ہیں۔خدا تعالیٰ آپ پر اپنی بے شمار رحمتیں فرمائے اور آپ کے مقاصد عالیہ کو پورا فرمائے۔آمین