حیات قدسی — Page 355
۳۵۵ لفظ یا نُحَدَةُ الملَّة حركة قَامَتْ مَقَامَ الجُملة یعنی اے ملت کے نحو یو! وہ کونسا لفظ ہے جو صرف حرکت ہے اور جملہ کے قائم مقام ہے۔میں نے عرض کیا :۔إِنَّ هِندُ الْمَلِيحَةُ الْحَسُنَاءُ وَأَيُّ مَنْ أَضْمَرَتْ لِحِلٍ وَفَاءُ یہ سن کر ایک صاحب بولے کہ ان حرف ناصبہ ہے اور اس کا عمل اسم ھند کو منصوب کرنے والا ہے۔نہ کہ مرفوع۔اس کے جواب میں ابھی میں نے کچھ نہ کہا تھا کہ سوال کرنے والوں میں سے ایک بڑے عالم بول اٹھے کہ آپ کا اعتراض درست نہیں۔یہاں نصب کی بجائے رفع ہی درست ہے۔اور ان اس جگہ ناصبہ نہیں بلکہ فعل امر کا صیغہ ہے۔اس کے بعد متفرق باتیں ہوتی رہیں۔اور بعض نے کہا کہ جو شعر جواب میں پیش کیا گیا ہے۔اس کی سمجھ نہیں آئی۔اور بعض نے کہا کہ یہ مسئلہ دراصل بہت مشکل ہے ، حل نہیں ہو سکتا لیکن سائل نے کہا کہ جو شعر پڑھا گیا ہے۔اس میں اس سوال کا جواب آگیا ہے۔اس پر حاضرین نے کہا کہ اس جواب کی تشریح کر دی جائے۔میں نے پہلے اس شعر کا ترجمہ کیا کہ :۔”اے ہند تو جو ملاحت اور حسن والی ہے۔وعدہ وفا بھی کیا کر۔ہاں اس محبوبہ کی وعدہ وفائی کی طرح جو اپنے مخلص دوست کے حق میں عہد وفا کو بعزم صمیم دل میں ٹھانے ہوئے ہے“۔اس کے بعد میں نے جو تشریح کی۔اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس شعر میں ان جو اپنی شکل کے لحاظ سے حرف ناصبہ اور فعل امر کے صیغہ میں مشترک طور پر ہے۔وہ اس جگہ ان ناصبہ کے طور پر استعمال نہیں ہوا۔بلکہ فعل امر کے صیغہ واحد - مؤنث۔حاضر کے طور پر استعمال ہوا ہے۔اور اس لحاظ سے وأي مصدر سے ہے جس کے معنیٰ ہیں۔اے ہند تو وعدہ وفائی کر اور ہند بوجہ بجذف حرف ندا منادی ہونے کے مرفوع ہے۔جیسے یا اللهُ يَا زَید وغیرہ اور وائی ماضی سے مضارع یئ ہے جسے وقی سے مضارع يقی ہے۔اور صیغہ واحد مذکر حاضر فعل امر بنتا ہے۔اور بصورت امر حاضر واحد