حیات قدسی — Page 340
۳۴۰ مشاہدہ سے ثابت ہے کہ جسم کی حالت کے ساتھ ساتھ روح کی حالت بھی تغیر پذیر ہوتی رہتی ہے۔اور اس کے علم اور قوت میں کمی و بیشی ہوتی رہتی ہے۔اسی طرح جسم بھی روح کے ضعف اور قوت سے متاثر ہوتا ہے۔پس جب روح کا تغیر پذیر ہونا ثابت ہو گیا تو منطق کے قضیہ کے مطابق العالم متغیر وكل متغير حادث فالعالم حادث روح کا حادث ہونا بھی ثابت ہو گیا۔گویا اس چھوٹے سے فقرہ میں آریہ مت کے عقیدے کا نہایت عمدگی سے بطلان کیا گیا ہے۔وَمَا أُوتِيتُمُ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا کی تشریح سوامی دیانند صاحب نے اپنی کتاب ستیارتھ پرکاش کے شروع میں ایشور کے ناموں میں سے دو نام سرب شکتیمان یعنی قادر مطلق اور علیم کل بھی لکھے ہیں لیکن روح اور مادہ یعنی جیو اور پر کرتی کے متعلق یہ تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ قادر مطلق اور علیم کل ہیں اور یہ ضرور ہے کہ جو ہستی انا دی اور خود بخود ہو وہ قادر مطلق اور علیم کل بھی ہو۔پس وَمَا أُوتِيتُمُ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلاً کے فقرہ میں روح کو کمال علم سے محروم قرار دے کر یہ ثابت کیا گیا ہے کہ روح مخلوق اور حادث ہے۔(۲) وَمَا أُوتِيتُمُ کے لفظ میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ جو علم قلیل روح کو حاصل ہے وہ بھی اس کا ذاتی نہیں بلکہ کسی اور ہستی کا عطا کردہ ہے۔واقعات سے بھی اس امر کی تصدیق ہوتی ہے کہ انسان بغیر پڑھانے اور سمجھانے کے کچھ علم نہیں رکھتا۔پس جب روح کا ناقص علم بھی اس کا ذاتی نہیں تو وہ ازلی ابدی اور ا نا دی کس طرح ہو سکتی ہے۔(۳) اسی طرح فقره أُوتِيتُم میں فعل ماضی استعمال کر کے زمانہ کی قید لگانا بھی روح کے انا دی اور ا ز لی ہونے کے خلاف ثبوت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔کیونکہ جس چیز پر زمانہ کی قید لگتی ہے وہ از لی اور ابدی نہیں ہوسکتی۔پس جس آیت پر پنڈت صاحب نے اعتراض کیا ہے کہ اس سے علم کی کوئی زیادتی نہیں ہوتی ، اس میں نہ صرف زمانہ حال بلکہ زمانہ مستقبل کے غلط عقاید کا کافی اور شافی بطلان کیا گیا ہے بلکہ چند الفاظ میں عظیم الشان حقائق بیان کر کے خدا تعالیٰ کے علیم کل ہونے اور قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا ثبوت مہیا کیا گیا ہے۔