حیات قدسی — Page 337
۳۳۷ سے نازل ہوتا ہے۔(اللَّهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَلَتَه ) اس کی تصدیق تمام کتب سماویہ سے ہوتی ہے۔یہ سب کے سب کلام منزل علیہ نبیوں کے اختیار یا ارادہ سے نازل نہیں ہوئے بلکہ محض اللہ تعالیٰ کی مشیت اور امر سے نازل ہوئے ہیں۔علم قليل اس جواب کے دوسرے فقرہ یعنی وَمَا أُوتِيتُمُ مِنَ الْعِلَمِ إِلَّا قَلِيلا میں اس کلام الہی کی ضرورت کو پیش کیا گیا ہے۔کہ چونکہ دنیا کے مادی علوم قلیل اور نا کافی ہیں۔اس لئے آسمانی علم اور معرفت کی ضرورت ہوتی ہے جو بذریعہ کلام الہی نازل ہوتی ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَكَذَالِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحاً مِّنْ أَمْرِنَا ، مَا كُنْتَ تَدْرِي مَا الْكِتَبُ الْإِيْمَانُ وَلَكِنْ جَعَلْنَهُ نُوراً نَّهْدِى بِهِ مَنْ نَّشَاءُ مِنْ عِبَادِنَا ، وَ إِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَى صِرَاطٍ مستقیم - 50 ط دوسرے الہیات کے متعلق فلسفیانہ علم بھی بہت قلیل اور کوتاہ ہوتا ہے۔کیونکہ وہ صرف ” ہونا چاہیئے کے ظنی مقام تک پہنچاتا ہے۔لیکن ” ہے“ کا یقینی مرتبہ کلام الہی اور اَنَا الْمَوْجُود کی آواز سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔وحی اور عقل میں وہی تعلق ہے جو سورج اور آنکھ میں پایا جاتا ہے۔آنکھ میں اگر چہ بینائی کا نور موجود ہے۔لیکن یہ نور اندھیرے کی حالت میں اور تاریک رات اور کمرے میں کام نہیں دے سکتا۔جب تک خارجی روشنی اور نور نہ ہو۔پھر خارجی نور اور روشنی بھی مختلف درجات رکھتی ہے۔سورج کی روشنی میں جو کچھ نظر آ سکتا ہے اور جس صفائی سے نظر آسکتا ہے وہ چاند کی روشنی میں نہیں آسکتا۔اور اسی طرح ستاروں اور چراغ کی روشنی میں درجہ بدرجہ فرق پڑتا جاتا ہے۔پس جس طرح آنکھ با وجود روشن ہونے کے خارجی نور کی محتاج ہے۔اور کبھی دور کی اشیاء دیکھنے کے لئے دور بین اور زیادہ دقیق چیزیں دیکھنے کے لئے خوردبین کی محتاج ہے۔اسی طرح انسانی عقل و علم بھی غیر الہام اور کلام الہی کا محتاج ہے۔اور اس کو احتیاج کو پورا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے امر سے روح یعنی کلام الہی نازل فرماتا ہے۔اسی طرح اس فقرہ میں کلام الہی کے متعلق جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن کریم کی وحی کے طور پر نازل ہوا یہ بتایا گیا ہے کہ یہ کلام خدا تعالیٰ کے امر سے نازل کیا گیا ہے۔چونکہ اہل کتاب