حیات قدسی — Page 336
۳۳۶ پہلی تقریر پنڈت کا لی چون صاحب کی تھی۔اول انہوں نے اپنی عربی دانی کا اظہار فرمایا اور اپنے تصنیف کردہ دو عربی رسائل جن میں سے ایک کا نام تحقیق الادیان‘ تھا۔میری طرف بھیجے۔روح کے متعلق سوال اور پھر يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ اَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمُ مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا کی آیت پڑھ کر اعتراض شروع کیا۔ان کا اعتراض جو انہوں نے بہت سی تفسیروں کے حوالے کو پڑھنے کے بعد کیا یہ تھا۔کہ قوم یہود نے جب پیغمبر اسلام سے سوال کیا کہ روح کیا ہے اور اس کی ماہیت کیا ہے تو اس کا جواب یہ دیا گیا۔کہ روح امر ربی سے ہے۔اور تمہیں روح کے متعلق جو علم دیا گیا ہے وہ بہت تھوڑا ہے۔یہ دونوں فقرے علم میں کچھ اضافہ نہیں کرتے۔اور نہ اس جواب سے قرآن اور پیغمبر اسلام منجانب اللہ ثابت ہوتے ہیں۔میرا جواب میں نے اول تو پنڈت صاحب کی عربی دانی پر مسرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ میں بھی عربی ، فارسی اور اردو کا شاعر ہوں۔اگر پنڈت صاحب چاہیں تو اسی وقت عربی نثر یا نظم میں مناظرہ کر سکتے ہیں۔پھر ان کو توجہ دلائی کہ از روئے ویدا گر روح کی ماہیت بیان کر دی جاتی تو وید کے حقائق و معارف ظاہر ہو جاتے۔اور قرآنی جواب کا نقص بھی واضح ہو جاتا۔اس کے بعد میں نے يَسْتَلُونَكَ عَنِ الرُّوح کے الفاظ کی تشریح کرتے ہوئے بتایا کہ يَسْتَلُوْنَكَ مضارع کا صیغہ ہے۔جو حال اور مستقبل دونوں زمانوں سے تعلق رکھتا ہے۔اور اس صورت میں سوال کرنے والے بھی دونوں زمانوں سے متعلق ہو سکتے ہیں۔ایک وہ جنہوں نے زمانہ حال میں یعنی جس وقت قرآن کریم کا نزول ہو رہا تھا۔سوال کیا۔اور وہ اہل کتاب یعنی یہودی علماء تھے۔قرآنی وحی کے نزول کے وقت لوگوں کا سوال کلام الہی کے متعلق تھا۔جیسا کہ آیت وَكَذَالِكَ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ رُوحًا مِنْ أَمْرِنَا 40 سے واضح ہوتا ہے اور آیت يَسْئَلُونَکَ عَنِ الرُّوح کے ماقبل اور مابعد کی آیات سے بھی ظاہر ہے۔اور اس سوال کا جواب خدا تعالیٰ نے یہ دیا کہ قل الروح مِنْ أَمْرِ رَبِّی یعنی کلام الہی کا نزول یونہی نہیں۔اور نہ کسی شخص کا اختیار ہے کہ جب چاہے اپنے اوپر نازل کر لے۔بلکہ یہ کلام جو حامل علوم الہیہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے امرا اور حکم