حیات قدسی — Page 315
۳۱۵ مضمون ہے جو ہر ایک بشیر ، نذیر کے صحیفہ میں جو قرآن کریم سے پہلے نازل ہو چکا ہے، پایا جاتا ہے۔جب میں نے یہ تشریح کی تو خواجہ صاحب نے بلند آواز سے مجھے مخاطب کر کے جزاک اللہ کہا اور کہا کہ اب میں اس جواب کی روشنی میں مزید تشریح بیان کرلوں گا۔اب آپ اپنے کمرہ میں تشریف لے جائیں۔میں تو اٹھ کر چلا آیا۔لیکن اسی وقت محمد ہاشم صاحب نے بھی جانے کی اجازت چاہی۔خواجہ صاحب نے ان کو کہا کہ ابھی آپ کچھ دیر اور تشریف رکھیں تا کہ مزید تبادلہ خیالات ہو سکے۔اس پر محمد ہاشم صاحب نے کہا کہ جو جواب مجھے ابھی دیا گیا ہے۔اس سے زیادہ آپ کیا دے سکیں گے پھر محمد ہاشم صاحب نے دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔جنہوں نے ابھی جواب دیا تھا۔خواجہ صاحب نے کہا کہ یہ میرے استاد ہیں۔محمد ہاشم صاحب نے کہا کہ قرآن سے اچھی واقفیت رکھتے ہیں اور اٹھ کر مع اپنے ساتھیوں کے چلے گئے۔خواجہ کمال الدین صاحب کے سفرلنڈن کی تقریب کا پیدا ہونا نواب سید رضوی صاحب نظام حیدر آباد کی پھوپھی صاحبہ کی جائداد کے منصرم تھے۔کچھ عرصہ بعد حضور نظام کی پھوپھی زاد ہمشیرہ نے اپنی والدہ کی تحریک پر سید رضوی صاحب سے نکاح کر لیا۔جب حضور نظام کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس کو سخت نا پسند کیا۔اور نواب سید رضوی صاحب کو حیدر آباد سے نکل جانے کا حکم دیا۔چنانچہ سید رضوی صاحب بمبئی چلے آئے۔نواب رضوی صاحب وکیل بھی تھے۔اسی طرح خواجہ کمال الدین صاحب بھی چیف کورٹ کے وکیل تھے۔ان ہر دو نے باہم مشورہ کیا کہ پریوی کونسل میں مقدمہ دائر کر کے رضوی صاحب کی بیوی کو اس کی والدہ کی جائداد اور ملکیت کا ورثہ دلایا جائے تا کہ وہ آزادی سے اپنے اخراجات چلا سکیں۔نواب رضوی صاحب نے خواجہ صاحب کے ساتھ مبلغ آٹھ ہزار روپے مقرر کیا تا کہ وہ لنڈن کو جا کر اس مقدمہ کی پیروی کریں۔خواجہ صاحب نے بڑی خوشی سے اس تجویز کو قبول کیا۔دوسرے دن خواجہ صاحب نے آ کر مجھے بتایا کہ نواب رضوی صاحب نے اس طرح آٹھ ہزار روپیہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔لیکن اب وہ کچھ متردد سے ہیں۔شاید ان کو اس مقدمہ میں کامیابی کا یقین نہیں رہا۔آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ سبب بنا دے اور آٹھ ہزار کی رقم مجھے مل جائے۔اس طرح دنیوی فائدہ کے علاوہ