حیات قدسی — Page 290
۲۹۰ چنانچہ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور آپ کے اہلبیت کی دردمندانہ دعا ئیں اللہ تعالیٰ کے خاص فضل کو کھینچنے کا باعث بنیں اور میں روبصحت ہونے لگا۔میری بیماری کے ایام میں حضرت صاحبزادہ میاں بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔حضرت مولوی شیر علی صاحب۔حضرت مفتی محمد صادق صاحب۔حضرت صوفی غلام محمد صاحب اور جناب چوہدری سر محمد ظفر اللہ خاں صاحب بالقابہ کے علاوہ بہت سے دوسرے احباب بھی عیادت کے لئے تشریف لاتے رہے۔میں ان سب محسنوں کا شکر گزار ہوں۔خدا تعالیٰ ان کو اس ہمدردانہ شفقت اور احسان کا بہترین اجر عطا فرمائے۔آمین با برکت چوغہ جب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ ڈلہوزی سے قادیان تشریف لائے تو و حضور نے ایک قیمتی چوغہ صاحبزادہ مرزا خلیل احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ اس عاجز کو بھجوایا۔جس کو میں نے پہنا اور اس کی برکت سے اپنی صحت میں نمایاں ترقی محسوس کی۔یہ متبرک چوغہ ہمارے پاس اب تک محفوظ ہے اور اس کو دیکھ کر اپنے محسن اور بے نظیر آقا کے لئے دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔خدا کرے آپ کی برکات کا سلسلہ تا قیامت ممتد رہے۔آمین یارب العالمین مکتوب گرامی اس بیماری کے بعد سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے از راہ نوازش مندرجہ ذیل خط بھی بطور مبارکباد کے خاکسار کے نام ارسال فرمایا :۔مکر می مولوی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ آپ کا خط مورخہ 4 ماہ تبوک ۱۳۲۲ ھ ملا۔اس عمر میں اس بیماری سے شفا واقعی فضل الہی کا ایک نمونہ ہے۔اللہ تعالیٰ اس نئی زندگی کو پہلے سے بھی زیادہ مبارک کرے۔والسلام خاکسار۔مرزا محمود احمد 10/9/87