حیات قدسی

by Other Authors

Page 280 of 688

حیات قدسی — Page 280

۲۸۰ روپیہ نقد حق مہر ادا کرے۔میاں احمد دین صاحب اتنی خطیر رقم ادا کرنے کے لئے تیار نہ تھے۔انہوں نے اپنے دو احمدی بھائیوں کے ذریعہ سے مجھے دعا کے لئے تحریک کی۔چنانچہ میں نے میاں احمد دین صاحب کے رشتہ کے لئے دعا کی خدا تعالیٰ کے فضل سے مجھے اچھا موقع میسر آ گیا۔اور میں نے دعا کرتے ہوئے کشفی طور پر دیکھا کہ میاں احمد دین صاحب کو یہ رشتہ ملنا مقدرات میں سے ہے اور یہ تقدیر کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔چنانچہ میں نے سب خواجگان اور حکیم محمد الدین صاحب کو بتا دیا کہ لڑکی کا نکاح میاں احمد دین و صاحب کے ساتھ ہونا اہل تقدیر ہے۔اس پر حکیم محمد الدین صاحب اور بعض دوسرے لوگوں نے کہا کہ لڑکی والے تو شدت کے ساتھ انکار کر رہے ہیں۔اور باوجود ہر طرح سمجھانے کے اس بات کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔میں نے کہا کہ مجھے جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے علم ہوا ہے۔میں نے اس کا اظہار کر دیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے عجیب تصرفات ہیں کہ ابھی دو تین دن نہ گزرے تھے کہ لڑکی کی والدہ نے حکیم محمد الدین صاحب کو بلا بھیجا۔اور ہیں ہزار روپیہ مہر کی ادائیگی پر میاں احمد دین صاحب کے ساتھ اپنی لڑکی کا نکاح منظور کر لیا۔چند دن کے بعد مقررہ تاریخ پر میاں احمد دین صاحب اپنی دلہن کو لاہور لے آئے اور مجھے بلا کر کہا کہ ہم نے دعا کا اثر اور الہامی بشارت کا وقوع میں آنا دیکھ لیا ہے اور مبلغ یکصد روپیہ کی رقم میرے سامنے رکھ دی اور اس کو قبول کرنے کے لئے کہا۔میں نے کہا کہ دعا کرنے سے میری غرض صرف احمدیت کی اعجازی برکت کے ذریعہ آپ پر اتمام حجت کرنا تھی۔میاں احمد دین صاحب پر اس واقعہ کا بہت اثر ہوا۔اور انہوں نے بر ملا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا اقرار کیا۔فالحمد لله علی ذالک دعا کے قبول نہ ہونے میں حکمت ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں ایک مناظرہ میں شرکت کے لئے لاہور سے بغرم حافظ آباد (ضلع گوجرانوالہ ) رات کے وقت روانہ ہوا۔حافظ آباد کے لئے گاڑی سانگلہ ہل جنکشن سے تبدیل ہوتی تھی۔میرے پاس کافی سامان تھا۔جب لاہور والی گاڑی سانگلہ ہل پہنچی تو تین چار بجے کا وقت تھا۔