حیات قدسی

by Other Authors

Page 279 of 688

حیات قدسی — Page 279

۲۷۹ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب سے تعلقات ہیں۔میں نے کہا کہ ہاں حضرت مسیح موعود قا دیانی علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے ہم سب ایک دوسرے کے ساتھ برادرانہ تعلقات رکھتے ہیں۔اس کے بعد چوہدری فضل داد نے مجھے اپنی بربادی کا طویل قصہ سنایا۔اور آبدیدہ ہو کر کہنے لگے کہ آخر قسمت کا یہ منحوس چکر مجھے کب تک پیتا رہے گا ؟ میں نے کہا کہ نداند هیچ کس سیر قضا مگر چوں حال تو تبدیل گردد کمی بیشی سوئے تعدیل گردد را که گرداند زتو این ابتلا را به خدا تواب و تائب را بخشد پس از صد عیب آئب را به بخشد اس کے بعد معلوم نہیں کہ انی مھین کے وعید کا یہ نشانہ کس کس جگہ ٹھوکریں کھا تا رہا۔چوہدری فضل داد کی شدید مخالفت کے باوجود ان کے گاؤں موضع چکریاں میں اللہ تعالیٰ نے کئی افراد کو احمدیت قبول کرنے کی توفیق بخشی۔چنانچہ چوہدری تا جے خاں اور چوہدری حسن محمد وڑائچ انہی کے کنبہ سے ہیں۔اسی طرح گاؤں میں سید لال شاہ صاحب اور سید سردار شاہ صاحب اور ان کی والدہ اور لڑ کے چوہدری فضل داد کی شدید مخالفت کے باوجود احمدی ہوئے اور احمدیت کی یہ ترقی بھی ان کے لئے حسرت اور تکلیف کا باعث بنی۔گوجرانوالہ میں ایک واقعہ چنیوٹ کے شیخ محمد امین صاحب اور ان کے دو چھوٹے بھائی میاں احمد دین صاحب اور میاں ابراہیم صاحب لاہور میں کاروبار کرتے تھے۔ان میں سے میاں احمد دین صاحب احمدی نہ تھے باقی دو بھائی احمدی تھے۔اور بوجہ احمدی ہونے کے گوجرانوالہ اور چنیوٹ کے خواجگان کا آپس میں گہرا تعلق اور مراسم تھے۔میاں احمد دین کی پہلی بیوی کی وفات پر انہیں گوجرانوالہ کے خواجگان معلوم ہوا کہ گوجرانوالہ میں شیخ نبی بخش مرحوم کی لڑکی کا رشتہ ان کے لئے بہت موزوں ہے شاید تحریک کرنے پر کامیابی ہو سکے۔چنانچہ سب نے حکیم محمد الدین صاحب امیر جماعت احمدیہ گوجرانوالہ سے کہا کہ وہ شیخ نبی صاحب مرحوم کی بیوہ کو تحریک کریں۔حکیم صاحب کی تحریک پر بیوہ شیخ صاحب نے جواب دیا کہ میری ایک ہی لڑکی ہے۔اور پندرہ بیس ہزار روپیہ کا ساز وسامان مجھے جہیز میں دینا ہے۔میری لڑکی کا رشتہ وہ لے سکتا ہے جو پچاس ہزار