حیات قدسی — Page 249
۲۴۹ تھی۔خلیفہ وقت کی معصیت ہے۔اور اس پر مجھے استغفار کرنا چاہیئے۔اس واقعہ کے دو تین دن بعد حضرت قریشی حکیم محمد حسین صاحب کی معرفت مجھے سیدنا حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کا ارشاد موصول ہوا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ خواجہ صاحب کی کوٹھی پر ان کے ساتھ گئے اور ان کی مجلس میں بیٹھے۔اگر کوئی اور ایسی بات کرتا تو بڑی بات نہ تھی لیکن آپ کو تو كلكم راع وكلكم مسئول عن رعيته 64 کے ارشاد نبوی کے پیش نظر خاص ذمہ داری کی وجہ سے ایسا نہیں کرنا چاہیئے تھا۔اور بہت زیادہ محتاط رہنا چاہئے تھا۔میں نے حضور کے اس ارشاد کے۔مطلع ہونے پر اپنی کوتاہی اور بے احتیاطی کو بہت محسوس کیا۔اور ایک ہی دن میں بطلب عفوتین خطوط حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں لکھے اور یہ عرض کیا کہ مجھ سے یہ بداحتیاطی اس خدشہ کے پیش نظر ہوئی کہ کہیں میرے انکار سے وہ حضور کی ذات گرامی کو طعن کا نشانہ نہ بنائیں۔ورنہ میں ہرگز ان کے ساتھ نہ جاتا۔پچانوے فی صدی خلافت ثانیہ کے ابتداء میں ”پیغام صلح “ میں یہ شائع کیا گیا کہ غیر مبائعین کے ساتھ جماعت کے پچانوے فی صدی افراد ہیں اور مبائعین یعنی حضرت سیدنا المحمود ایدہ اللہ کے ماننے والوں کے ساتھ پانچ فی صدی افراد ہیں۔مجھے اس دعوی کو سن کر بہت ہی قلق اور رنج ہوتا ہے کہ سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سالہا سال کی دعاؤں اور گریہ وزاریوں کے نتیجہ میں جو جماعت تیار ہوئی اس میں رخنہ اور فتنہ ڈالنے کے لئے ظالموں اور بداندیشوں نے اتنا بڑا طوفان کو اٹھایا ہے۔میں نے اس مصیبت عظیمہ کے پیش نظر روزانہ دعا کا سلسلہ شروع کر دیا۔بعض اوقات مجھے صدمہ اس قدر شدید محسوس ہوتا کہ میں آہ و بکا کرنے لگ جاتا۔اسی طرح وقت گزرتا گیا اور میں سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ کے ارشاد کے ماتحت مالا بار کے لئے روانہ ہوا۔جب میں بمبئی پہنچا اور وہاں بھی غیر مبائعین کے فتنہ کے لئے بہت دعا کی تو ایک دن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک لکھا ہوا کاغذ میرے سامنے لایا گیا۔جس پر جلی قلم سے یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے۔انْظُرُ إِلَى ابنِ المَسِيحَ إِذَا جَاءَ هُ فِي وَقْت المعضل اس کے بعد مجھے تسلی و اطمینان ہو گیا کہ اللہ تعالیٰ جلد حضرت سید نا لمحمود ایدہ اللہ تعالیٰ کے ذریعہ