حیات قدسی

by Other Authors

Page 248 of 688

حیات قدسی — Page 248

۲۴۸ میری ایک کوتا ہی خواجہ کمال الدین صاحب سید نا حضرت خلیفۃ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے وقت لنڈن میں ہی تھے۔جب واپس لاہور پہنچے تو میاں چراغ دین صاحب کے مکان مبارک منزل میں جہاں ہم نمازیں وغیرہ ادا کرتے تھے ایک دن بعد نماز جمعہ آئے۔میں کئی احباب کی معیت میں وہاں بیٹھا ہوا تھا۔آتے ہی انہوں نے میرے ساتھ اور دوسرے احباب کے ساتھ مصافحہ اور معانقہ کیا۔کچھ دیر بعد بیٹھ کر کہنے لگے کہ آئیے ! ذرا باہر ٹہلتے اور باتیں کرتے چلیں۔میں اس خیال سے کہ ان کے دل میں یہ وسوسہ پیدا نہ ہو کہ میاں صاحب (حضرت سید نا محمود ایدہ اللہ ) نے اپنے مریدوں کے کے دلوں میں کسی قسم کے نفرت کے جذبات پیدا کر دیئے ہیں ، ان کے ساتھ ہولیا۔راستہ میں خواجہ صاحب نے جماعت میں تفرقہ پیدا ہونے پر اظہار افسوس کیا۔چلتے چلتے ہم ان کی کوٹھی پر جا پہنچے وہاں کے پر خواجہ صاحب کے بہت سے ملاقاتی بھی جو ان کی واپسی کی خبر سن کر آئے ہوئے تھے موجود تھے۔ان سب کے بار بار کے اصرار پر میں بھی وہاں کچھ دیر کے لئے بیٹھ گیا اس خیال سے کہ وہ میرے انکار کو میری بداخلاقی پر محمول نہ کریں بعد میں اٹھ کر واپس آنے لگا تو سب لوگوں نے مزید بیٹھنے کے لئے اصرار کیا لیکن میں نے مزید بیٹھنا پسند نہیں کیا اور وہاں سے چلا آیا خواجہ صاحب نے کہا کہ اب ضرور ہی جانا ہے تو چلے جائیں اور پھر جب چاہیں تشریف لائیں۔اس سے ہمیں خوشی ہوگی۔اس واقعہ کے بعد رات کو مجھے الہام ہوا کہ ؎ چوں صحابہ صحابہ حب دنیا داشتند مصطف را بے کفن بگذاشتند اس کے متعلق مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ شعر غیر مبائعین کے متعلق ہے جنہوں نے نبوت مسیح موعود اور خلافت حقہ کا انکار کر کے آپ کی ہتک اور توہین کی ہے۔اسی رات مجھے یہ الہام بھی ہوا۔الہی عاصیم استغفر الله تو کی فریا درس الحمد للہ اس شعر کے متعلق مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ میرا خواجہ صاحب کے ساتھ اس نازک وقت میں جانا جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان زبر دست رسہ کشی جاری تھی اور مجھ پر جماعت لاہور کی ذمہ داری بھی