حیات قدسی — Page 236
۲۳۶ ہوں۔اس کے بعد مجھے کسی بحث کی ضرورت نہیں۔جن علماء کو میں لایا ہوں وہ اب میری طرف سے رخصت ہیں اور میں ان سے علیحدگی کا اظہار کرتا ہوں۔چوہدری خان محمد صاحب کے اس اعلان پر کئی اور افراد نے بھی احمدیت کو قبول کرنے کا اعلان کیا اور غیر احمدی علما ء چار بجے سے پہلے چک لوہٹ سے بہت حسرت اور بے آبروئی سے رخصت ہو کر واپس چلے گئے۔خدا تعالیٰ کی خاص نصرت اور فضل سے عین اس موقع پر آٹھ افراد نے بیعت کر کے سلسلہ حقہ کو قبول کر لیا۔فالحمد للہ علی ذالک موجودہ زمانہ میں مناظروں کا طریق اور ان کی قباحت میں جب عالم شباب میں تھا اور احمدیت کے قبول کرنے پر ابھی چند سال ہی گزرے تھے تو و میرے اندر روحانی قوت کا شدت سے تموج محسوس ہوتا تھا۔خدا کے پیارے نبی و رسول یعنی سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ حیات تھا۔نزول وحی کے تازہ بتازہ انوار و فیوض و برکات کی پیہم بارش ہوتی تھی۔ایک طرف وحی کی بشارت سن رہے ہیں اور دوسری طرف نئے نئے نشانات اور و خوارق رونما ہو رہے ہیں۔الغرض وہ زمانہ خدا تعالیٰ کی نعمتوں اور برکتوں کا عظیم الشان زمانہ تھا۔روزانہ خدا کی ہزاروں مخلوق کے قلوب اور ارواح کو طہارت اور نور کے پانی سے غسل دیا جا تا تھا۔لیکن جب سے سلسلہ مناظرات اور مباحثات کا شروع ہوا اور مجھے بامر مجبوری ان میں حصہ لینا پڑا تو میری اس روحانی حالت کو بہت نقصان پہنچا۔ان مباحثات اور مناظرات میں جو موجودہ زمانہ میں ہوتے ہیں غیروں کی طرف سے شاذ ہی تحقیق حق اور حق جوئی کا مقصد مد نظر رکھا جاتا ہے۔اگر مناظرے سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے منشاء کے ماتحت کئے جاتے اور ان میں دعوئی اور اس کے کے دلائل اپنی اپنی الہامی کتاب سے پیش کئے جاتے اور صرف مذہبی محاسن اور خوبیوں کے ظاہر کرنے تک بات رہتی تو یہ قباحتیں اور فساد لازم نہ آتے جواب دیکھنے میں آتے ہیں۔مناظروں میں قباحت کی وجہ مناظروں میں ان برائیوں کے رائج ہونے کی بڑی وجہ یہ ہے کہ جب عیسائی پادریوں اور آریہ مہاشوں اور پنڈتوں نے یہ دیکھا کہ قرآن کریم کی مدلل اور کامل تعلیم کے کسی حصہ کا بھی وہ مقابلہ