حیات قدسی — Page 235
۲۳۵ حوالے پیش کئے اور حدیث لا نبی بعدی 20 کی بھی تشریح کی۔میری اس تقریر کے جواب میں غیر احمدی مولوی صاحب نے فرمایا کہ ہم سواد اعظم ہیں اور جس کے پر لوگوں کی اکثریت متفق ہو وہ ہدایت ہی ہوتی ہے۔اس کے جواب میں میں نے بتایا کہ قرآن کریم میں مَا كَانَ اَكْثَرُهُمْ مُّؤْمِنِينَ قَلِيلًا مَّا يُؤْمِنُونَ 20 کے فقرات وارد ہوئے ہیں یعنی مومن تھوڑے ہوتے ہیں پھر قرآن کریم میں یہ بھی وارد ہے کہ اِن تُطِعُ اَكْثَرَ مَنْ فِى الْأَرْضِ يُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ ا پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے کہ امت محمدیہ کے تہتر فرقے ہو جائیں گے۔جن میں سے سوائے ایک فرقے کے سب دوزخی ہوں گے۔غرض میں نے اکثریت کی حقیقت کو اچھی طرح واضح کیا۔میرے مقابل پر مولوی محمد عبد اللہ صاحب کے علاوہ دوسرے علماء بھی باری باری بولتے رہے اور احمدیوں کی طرف سے خاکسارا کیلا ہی اللہ تعالیٰ کی توفیق و نصرت اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے جواب دیتا رہا۔ابھی بحث کے مقررہ وقت سے آدھ گھنٹے کے قریب باقی ہی تھا کہ جناب چوہدری خان محمد صاحب جو ان غیر احمدی علماء کو دعوت دے کر رو پڑ سے ان کو ساتھ لائے تھے اور ان کے جلسہ کی و صدارت کر رہے تھے اپنی جگہ سے اٹھ کر دونوں فریق کے مناظروں کے درمیان کھڑے ہو گئے اور اونچی آواز سے کہنے لگے کہ میں علماء کو روپڑ سے خود لایا تھا۔اس کی غرض ہار جیت نہ تھی اور نہ کوئی تعصب و بغض تھا۔بلکہ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میری اصل غرض حق جوئی اور حق طلبی تھی۔اس وقت تک جس قدر بحث ہو چکی ہے اس کے سننے سے میرا مقصد بخوبی حاصل ہو گیا ہے اور میں نے منصفانہ طریق پر سمجھ لیا ہے کہ حق کس طرف ہے اور باطل کس طرف، میں اپنے علماء کو عالم اور ایماندار سمجھ کر لا یا تھا لیکن اب اس بحث کے بعد میر احسن ظن ان کے متعلق بدل گیا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ ان علماء نے احمدی عالم کے سامنے دھوکا اور فریب کی باتوں کو پیش کیا ہے اور بدکلامی اور بدتہذیبی سے کام لیا ہے۔ان کے مقابل پر احمدی مناظر نے نہایت شرافت اور تہذیب کا نمونہ اور عالمانہ شان دکھائی ہے۔جس سے میرے دل پر گہرا اثر پڑا ہے پس میں علی وجہ البصیرت اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرتا