حیات قدسی

by Other Authors

Page 218 of 688

حیات قدسی — Page 218

۲۱۸ خیر جو کچھ انہوں نے کہا میں خاموشی اور تحمل سے سنتا رہا جب وہ اپنا غبارِ خاطر نکال چکے۔تو میں نے عرض کیا کہ میری نسبت جو الفاظ آپ نے استعمال کئے ہیں اگر فی الحقیقت میں ایسا ہوں تو آپ نے ایک بُرے کو بُرا کہ کر امر واقعہ کا اظہار کیا ہے لیکن اگر میں ایسا نہیں جیسا کہ آپ نے میری نسبت کہا ہے تو آپ یا درکھیں کہ آپ دنیوی حکومت کے معزز کارکن ہیں اور میں بظا ہرحقیر ہستی ہوں۔لیکن سید نا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کے لشکر کا سپاہی ہوں اور آسمانی حکومت کا نمائندہ ہو کر کراچی میں آیا ہوں آپ نے میری نسبت سخت الفاظ استعمال کر کے میری توہین کی ہے اور مجھ پر ہی نہیں بلکہ آسمانی حکومت پر بھی حملہ کیا ہے آپ نہیں مریں گے جب تک کہ آپ اس تو ہین کا خمیازہ نہ بھگت لیں۔میں اتنا کہہ کر اپنی قیام گاہ پر چلا آیا اور امیر صاحب کی اس کارروائی سے حضرت سیدنا خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ کی خدمت میں ایک خط کے ذریعہ اطلاع کر دی۔میں تقریباً چھ ماہ تک کراچی میں رہا۔لیکن اس کے بعد امیر صاحب میرے ساتھ بے اعتنائی ہی برتے رہے۔اس کے بعد مرکز کے حکم سے میں واپس قادیان آ گیا۔ازاں بعد امیر صاحب جماعت کراچی کے متعلق قضاء و قدر نے ابتلاء کی خطرناک صورت پیدا کر دی۔اس کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ ایک سندھی پیر کے مرید نے ایک عورت کو اغوا کر لیا اور مغویہ عورت کو پیر صاحب کے ہاں روپوش کر دیا۔اس کی اطلاع ملنے پرا میر صاحب جماعت جوانسپکٹر پولیس بھی تھے معہ پولیس گارڈ کے پیر صاحب کے گھر بغرض تفتیش پہنچے اور خانہ تلاشی کی بے حد کوشش کی۔لیکن پیر صاحب اور ان کے مریدوں نے خانہ تلاشی نہ ہونے دی۔آخر دنگا فساد تک نوبت پہنچی۔جس میں انسپکٹر صاحب اور سپاہیوں کو شدید ضربات آئیں۔مغویہ عورت تو مکان سے ادھر اُدھر کر دی گئی اور الٹا پولیس پر گھر کی پردہ نشین مستورات کی توہین کا مقدمہ دائر کر دیا گیا۔اس مقدمہ میں شاخ در شاخ کئی الزامات بنا لئے گئے اور انسپکٹر صاحب پولیس پر ۱۴ مقدمات مختلف لوگوں کی طرف سے دائر کرائے گئے اس دوران میں ان کو معطل کیا گیا اور کچھ عرصہ بعد انسپکٹر سے سب انسپکٹر بنا دیا گیا۔اب انسپکٹر صاحب کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے مجھے نہایت دردمندانہ خط لکھا کہ مجھے خوب معلوم ہو گیا ہے کہ یہ مصائب در مصائب اور ابتلاء پر ابتلاء مجھ پر کیوں