حیات قدسی

by Other Authors

Page 217 of 688

حیات قدسی — Page 217

۲۱۷ ن جب باہر سے کام کاج کرتے ہوئے آیا تو آتے ہی بوجہ بھوک اور پیاس کے غلطی سے بھول کر کھانا وغیرہ کھا لیا مجھے اس وقت روزہ قطعا یاد نہ تھا بعد میں مجھے یاد آیا کہ میں تو روزہ دار ہوں اور مجھ یہ غلطی ہوئی ہے اب شریعت کی رُو سے جو فتولی ہو اس سے مطلع کیا جائے۔اس شخص کی یہ بات سن کر دونوں فریق جو اس کے متعلق جھگڑا کر رہے تھے حیران و ششدر رہ گئے اور وہ لوگ جو اس کے متعلق بدظنی میں مبتلا تھے بہت ہی شرمندہ ہوئے۔اس قسم کی بہت سی مثالیں دے کر میں نے جناب امیر صاحب پر بدظنی اور نکتہ چینی کرنے کی عادت کی شناخت کو واضح کیا اور مرکزی کارکنوں کے درجہ اور مقام کے متعلق روشنی ڈالی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اہل بیت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا قرب عطا کیا ہے۔مقدس مرکز میں قیام کی توفیق دی ہے اور خلافت راشدہ حقہ کے فیوض سے براہ راست متمتع فرمایا ہے۔امیر صاحب اس پر چپ ہو گئے اور دعا کے بعد مجلس برخاست ہو گئی۔میں نے اس کے بعد اپنی ماہوار رپورٹ میں دفتر نظارت دعوۃ و تبلیغ میں او رسید نا حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں جماعت کراچی اور اس کے امیر صاحب کے حالات اور خیالات کے متعلق بھی ذکر کر دیا اور جماعت کی اصلاح کے لئے درخواست دعا کی۔ان دنوں جناب چوہدری فتح محمد صاحب سیال ناظر دعوۃ و تبلیغ رخصت پر تھے اور مکرم مولوی عبدالرحیم صاحب نیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نائب ناظر دعوۃ و تبلیغ ان کی جگہ پر قائمقام تھے۔میری رپورٹ کے مرکز میں پہنچنے کے کچھ عرصہ بعد مجلس مشاورت کے موقع پر امیر صاحب جماعت کراچی قادیان آئے اور دفتر میں آکر میری رپورٹ بھی ملاحظہ کر لی ( محترم نیر صاحب نے غلطی سے لیکن نیک دلی سے یہ رپورٹ ان کو دکھا دی۔جس پر حضرت خلیفۃ المسی الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ نے تادیبی کارروائی بھی فرمائی۔) جب امیر صاحب مجلس مشاورت سے فارغ ہو کر واپس کراچی پہنچے تو مجھے ملے اور کہنے لگے کہ میں آپ کی رپورٹ مرکز میں جا کر پڑھ آیا ہوں جو کچھ آپ نے میرے متعلق لکھا ہے اس سے مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ آپ کس طرح کے آدمی ہیں پھر غضب آلود ہو کر انہوں نے بہت سے نا مناسب اور نازیبا کلمات میرے متعلق استعمال کئے حتی کہ غصہ کی حالت میں شیطان کا لفظ بھی انہوں نے مجھے کہا۔