حیات قدسی

by Other Authors

Page 163 of 688

حیات قدسی — Page 163

۱۶۳ کامیاب علاج ایک مدت کے بعد کوئی سیاح بادشاہ کے شہر میں آ نکلا اور اتفاق سے بادشاہ کے اطباء اور معالجوں کی قیام گاہ پر گیا۔جب اس نے بادشاہ کی جانکسل بیماری اور اتنا لمبا عرصہ تک نا کام علاج کے متعلق سنا تو بہت افسوس کیا اور کہا کہ علاج تو بہت آسان ہے۔لیکن اطباء نے یوں ہی اتنا لمبا عرصہ لگایا ہے۔اس سیاح کی یہ بات افواہا عام شہر میں پھیل گئی۔یہاں تک کہ بادشاہ اور اس کے درباریوں تک بھی جا پہنچی۔دوسرے دن جب بادشاہ دربار میں آیا تو اس نے اس کا ذکر اپنے وزراء وامراء کے سامنے کیا۔سب نے کہا کہ ہم نے بھی یہ بات سنی ہے۔چنانچہ بادشاہ نے حکم دیا کہ اس سیاح کو طلب کیا جائے جب وہ سیاح شاہی دربار میں حاضر ہوا تو بادشاہ نے اسے مخاطب کر کے کہا کہ ایسی ایسی بات سننے میں آئی ہے کیا یہ درست ہے۔اس سیاح نے عرض کیا کہ ہاں یہ درست ہے اور میں آپ کا کامیاب علاج بہت ہی قلیل وقت میں کر سکتا ہوں اس کے بعد اس نے کہا کہ کیا آپ اپنا علاج ابھی جلوت میں کرانا چاہتے ہیں یا خلوت و علیحدگی میں؟ یہ سن کر بادشاہ کچھ متامل ہوا اور اس نے خیال کیا کہ سب کے سامنے علاج کی صورت میں ہو سکتا ہے کہ کوئی ایسی بات وقوع میں آئے جو باعث خفت ہو۔اس لئے اس نے کہا کہ میں علاج خلوت و علیحدگی میں کراؤں گا۔چنانچہ مناسب جگہ اور وقت پر جو علاج کے لئے تجویز ہوا وہ سیاح پہنچ گیا۔اور بادشاہ سے عرض کیا کہ اس وقت علاج کے طور پر جو تجویز میں آپ کی خدمت میں پیش کروں گا اگر وہ آپ مان لیں گے تو یقیناً آپ کو بیماری سے فوراً شفا ہو جائے گی۔بادشاہ نے کہا کہ آپ کہئے میں اس پر عمل کرنے کی کوشش کروں گا سیاح نے کہا کہ اترک الحکومته یعنی اپنی بادشاہت کو چھوڑ دو۔بادشاہ اس تجویز سے حیران و متعجب ہوا اور اس کی وجہ دریافت کی۔سیاح نے عرض کیا کہ بادشاہوں کو بادشاہوں سے مقابلے اور لڑائیاں بھی کرنا پڑتی ہیں۔پس آپ خود ہی بتائیں کہ جب آپ اس حقیر اور ذلیل مٹی کا جو روزانہ پاؤں اور جوتوں کے نیچے روندی جاتی ہے مقابلہ نہیں کر سکتے اور اس سے مغلوب ہورہے ہیں تو جب آپ کا مقابلہ کسی زبر دست غنیم سے ہو گا تو اس کے مقابل پر آپ کس طرح کامیاب ہو سکیں گے؟ یہ یقینی امر ہے کہ آپ شکست کھا کر نہ صرف اپنی بادشاہت سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے بلکہ اپنی عزت و آبرو اور جان بھی گنوائیں گے۔پس کیا یہ بہتر نہیں کہ آپ ابھی حکومت سے دستبردار ہو کر کسی زیادہ مناسب آدمی کو تخت پر بیٹھنے کا موقع دیں۔ہاں اگر حکومت کرنے کا عزم وارادہ ہے تو پھر این عزم الملوک ( بادشاہوں کا عزم آپ میں کہاں ہے ) یہ الفاظ کہہ کر سیاح نے بادشاہ کے خفتہ