حیات قدسی — Page 162
کرتے ہیں۔لیکن ہمیں تو اس میں کچھ برائی یا مضرت معلوم نہیں ہوتی۔اس پر وزراء اور دوسر۔درباریوں نے عرض کیا کہ بادشاہ سلامت ! لوگ یونہی اس کے نقصانات بتاتے ہیں۔ان کو کیا معلوم ہے کہ مٹی میں کیا کیا خزانے اور عجائبات پائے جاتے ہیں۔آخر سب انسانوں کی غذا ئیں اور باغ و بستان مٹی سے ہی بنتے ہیں اور انسان جو اشرف المخلوقات ہے وہ بھی مٹی سے ہی پیدا کیا گیا ہے۔پھر مٹی نقصان دہ کیسے ہو سکتی ہے۔بادشاہ درباریوں کی مٹی کے متعلق ایسی تعریفوں کو سن کر مٹی کھانے کی عادت میں اور بھی پختہ ہو گیا۔جب مٹی کے استعمال پر بادشاہ کو ایک عرصہ گزر گیا تو اس کے بدنتائج ظاہر ہونے شروع ہوئے۔جگر خون پیدا کرنے سے رہ گیا۔معدہ کی قوت ہضم میں فرق آگیا چہرہ پر بے رونقی اور مسوڑوں اور زبان پر کمی خون کے اثرات ظاہر ہو گئے۔چلنے کے وقت سانس پھولنا شروع ہو گیا۔ان علامات کے نمایاں ہونے پر بادشاہ نے پھر دربار میں ذکر کیا کہ میں نے مٹی کھانے کی عادت اختیار کی تھی۔لیکن میں نے مٹی کو کیا کھا یا مٹی نے مجھے کھا لیا ہے اور جو جو عوارض اور نقصانات اس کو ہوئے تھے وہ بیان کئے۔اس پر درباریوں نے جو دراصل " راجہ کے غلام تھے نہ کہ بینگن کے ، مٹی کی مذمت شروع کر دی اور اس میں ہر طرح کی مبالغہ آمیزی سے کام لیا۔کسی نے کہا مٹی جیسی مذموم چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔جس پر تمام مخلوقات کا بول و براز پڑتا ہے۔کسی نے کہا کہ سب لوگوں کے جوتے جس پر ہر روز پڑیں وہ چیز بھی کچھ قابل تعریف ہو سکتی ہے۔علی ہذا القیاس جس درباری کے دل میں جو بھی مذمت کا خیال آیا اس نے کہہ ڈالا۔بادشاہ نے کہا اب ما مضلی کو رہنے دو اور میری صحت کی بحالی کے لئے کوئی تجویز و انتظام کرو۔چنانچہ ملک کے طول و عرض سے چیدہ چیدہ اطباء اور معالج در جنوں کی تعداد میں بادشاہ کے علاج کے لئے جمع کئے گئے اور علاج شروع ہوا۔بادشاہ نے سب معالجوں کو کہا کہ علاج شروع کرنے سے پہلے میری ایک شرط ہے کہ چونکہ مٹی کھانے کی عادت میرے اندر راسخ ہو چکی ہے اور اس کو میں چھوڑ نہیں سکتا۔اس لئے ایسا علاج کیا جائے کہ بغیر کسی وعظ ونصیحت کے اور بغیر کسی پر ہیز کرانے کے دوا اور غذا کے استعمال سے ہی مٹی کی عادت ترک ہو جائے اور مٹی سے نفرت پیدا ہو جائے۔چنانچہ علاج شروع ہوا اور ایک عرصہ تک ہوتا رہا۔لیکن نہ ہی بادشاہ مٹی کھانے سے باز آیا اور نہ ہی کوئی دوا اور غذا اس کے عادت کو ترک کرانے کے لئے کارگر ہوسکی۔