حیات قدسی

by Other Authors

Page 130 of 688

حیات قدسی — Page 130

۱۳۰ قاضی صاحب موصوف نے جب میری یہ بات سنی تو مجھ سے کہنے لگے کہ آپ قرآن مجید کی کسی آیت کے متعلق کچھ بیان کریں میں نے کہا آپ جس آیت کے متعلق چاہیں میں بیان کرنے کے لئے تیار ہوں۔یہ سنتے ہی قاضی صاحب نے يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ سے وَبِالْآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ تک قرآن مجید کے فقرات کے متعلق مجھے تشریح کرنے کے لئے کہا۔چنانچہ میں نے اسی وقت ان آیات کے متعلق بیان کیا کہ يُؤْمِنُونَ بِالْغَيْبِ کے فقرہ میں اللہ تعالیٰ کے کلام قرآن مجید کے اعجاز بلاغت کا نمونہ پایا جاتا ہے کیونکہ وہ شخص جو ابھی ابھی مسلمان ہوا ہے اور اس نے صالح ، شہید، صدیق اور نبی کا مرتبہ حاصل نہیں کیا وہ بھی اس آیت کی رُو سے اسی طرح ایمان بالغیب سے تعلق رکھتا ہے جس طرح 1 ان مدارج اربعہ کے رکھنے والے افراد تعلق رکھتے ہیں گویا کہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک ہی جملہ میں مبتدی اور منتہی کے مدارج ایمان کے اختلاف کے باوجود ایک ایسا جملہ استعمال فرمایا ہے جو ہر ایک کی استعداد و قابلیت پر صادق آتا ہے اور پھر ایمان باللہ، ایمان بالملئکۃ ، ایمان بالکتب ، ایمان بالرسل، ایمان بالقدر خيره وشره اور ایمان بالبعث بعد الموت وغیرہ کے مسائل جو سرا سر غیب سے تعلق رکھتے ہیں ان پر بھی مشتمل ہے۔اس کے بعد میں نے قاضی صاحب کو انہی آیات میں سے علم الیقین ، عین الیقین ، حق الیقین اور شنید ، دید اور رسید کے مدارج سہ گانہ کے متعلق بھی کچھ سنایا۔اور پھر سورہ فاتحہ کی صفات اربعہ کی سیر سے روحانی سلوک کی چار منزلیں جو سیر الی اللہ، سیر من اللہ، سیر فی اللہ اور سیر معل اللہ کے نام سے موسوم ہیں وہ بھی بتا ئیں۔قاضی صاحب نے جب میری یہ باتیں سنیں تو حیرت زدہ ہو گئے اور خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔سید نا حضرت مولانا نورالدین صاحب کی شفقت سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں جب بھی میں قادیان مقدس میں حاضر ہوتا تو اکثر حضرت مولانا نورالدین صاحب مجھے طب پڑھنے کی ترغیب دیا کرتے اور یہ بھی فرمایا کرتے کہ آپ ذہین آدمی ہیں اس لئے میں آپ کو جلد ہی طب پڑھا دوں گا۔اس کے جواب میں میں یہی عرض کرتا رہا کہ مجھے تصوف کے بغیر اور کسی علم سے شغف نہیں اس لئے معذور ہوں آخر جب اسی طرح کئی سال گذر گئے تو ایک دن حضرت مولانا صاحب مہمان خانہ میں تشریف لائے اور ایک طب کی