حیات قدسی — Page 129
۱۲۹ حاضر ہو گئے اور پھر آنحضور اقدس کی محبت میں آپ نے اتنی ترقی کی کہ تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے آنحضور کی اکثر باتوں کو اس محبت کے جذبہ سے سنا اور یا درکھا کہ آج تک حدیث کی کتابوں میں جابجا کثرت سے آپ کی روایات پائی جاتی ہیں میرے اس جواب کو جب چوہدری صاحبداد خاں صاحب نے سنا تو کہنے لگے آپ کی تشریح تو واقعی معقول ہے مگر یہ معنے پہلے کبھی نہیں سنے گئے۔اس کے کے بعد انہوں نے مثنوی کے ایک اور واقعہ کے متعلق بھی استفسار کیا جس کا جواب سن کر آپ بہت خوش ہوئے اور مجھے کہنے لگے میرا جی چاہتا ہے کہ میں آپ سے مثنوی پڑھ لوں۔شاہدولہ ولی صاحب کے ایک مرید سے مکالمہ الصلوة سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے عہد مبارک میں جب میں ایک دفعہ شہر گجرات میں گیا تو مجھے معلوم ہوا کہ شاہد ولہ ولی صاحب ( جو اس شہر میں ایک مشہور بزرگ گزرے ہیں ) کے روحانی جانشین قاضی سلطان محمود صاحب ساکن آہی اعوان ہیں (حضرت مسیح موعود علیہ ا والسلام نے اپنی کتاب انجام آتھم میں جن علماء مخالفین اور سجادہ نشینوں کو مباہلہ کے لئے دعوت دی ہے ان میں قاضی صاحب موصوف کا نام بھی درج ہے) میں جب ان سے ملنے کے لئے گڑھی شاہدولہ ولی صاحب کے محلہ میں گیا تو مجھے دیکھ کر انہوں نے میرا نام اور پستہ وغیرہ دریافت کیا۔میرے بتانے پر جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ میں موضع را جیکی کا رہنے والا ہوں تو انہوں نے میرے چا حضرت میاں علم الدین صاحب جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت را شدہ سے قبل ان کے ہم مشرب اور یاران طریقت سے تھے ، کے متعلق بھی دریافت کیا اور پھر یہ معلوم ہونے کے پر کہ میں حضرت میاں صاحب موصوف کا برادر زادہ ہوں اور احمدی بھی ہوں انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آپ کو جناب مرزا صاحب کی بیعت سے کیا فائدہ حاصل ہوا ہے۔میں نے انہیں بتایا کہ مجھے حضرت مرزا صاحب کے ذریعہ سے قرآن مجید کی وہ صحیح تعلیم اور عقائد صحیحہ و اعمال صالحہ حاصل ہوئے ہیں جو آنحضرت صلعم کے اسوۂ حسنہ کے عین مطابق ہیں علاوہ ازیں غیر مذاہب کے وہ اعتراضات جو اسلام اور بانی اسلام پر کئے جاتے ہیں اور مسلمان علماء ان کا جواب دینے سے قاصر ہیں۔حضرت مرزا صاحب علیہ الصلوۃ والسلام کی برکت سے ہمیں ان تمام اعتراضات کا جواب دینے اور اسلام کی حقانیت بھی ثابت کرنے کی توفیق بھی حاصل ہے۔