حیات قدسی — Page 86
اچھا خدا حافظ۔۸۶ خدا کی حکمت ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد حضور نے ہمیں الوداع کیا اور یہ دعائیہ جملہ فرمایا تو اس کے کے بعد ہم قادیان مقدس سے نکلتے ہی جب چند قدموں کے فاصلہ پر پیپل کے درختوں کے پاس پہنچے تو ہمارے راستہ کی بائیں جانب ایک بہت بڑا سانپ ملا جو ہمیں دیکھ کر دوسری طرف سرک گیا اور ہم بیچ گئے۔اس سے آگے جب ہم ناتھ پور کے گاؤں کے پاس پہنچے تو پھر ایک سانپ ہمارے سامنے آیا اور قریب ہوتے ہی وہ میرے پاؤں پر چڑھ گیا۔جسے میں نے جھٹک کر دور پھینک دیا اور ہم بچ گئے۔اس کے سے آگے جب ہم نہر پر پہنچے تو پھر ایک سانپ دیکھا جو ہمیں دیکھ کر دوسری طرف چلا گیا۔آگے بڑھے تو وڈالہ گرنتھیاں کے گاؤں کے پاس پھر ایک سانپ دیکھا جس سے پھر خدا تعالیٰ نے ہماری حفاظت فرمائی پھر جب ہم بٹالہ کے قبرستان کے پاس سے گذرنے لگے تو وہاں بھی ایک سانپ راستے میں پایا اور اس سے بھی ہمیں خدا تعالیٰ نے محفوظ رکھا۔گویا کہ اللہ تعالیٰ نے محض حضور اقدس علیہ السلام کے ” خدا حافظ فرمانے کی برکت سے ہمیں پانچ مرتبہ ان زہریلے سانپوں سے حفاظت میں رکھا اور کسی کو کوئی گزند نہ پہنچا۔الحمد لله علی ذالک۔الم نشرح لك صدرک حضور اقدس علیہ السلام کی بیعت راشدہ کے بعد ایک دفعہ میں اپنی مجو بانہ زندگی پر افسردہ خاطر ہوا تو میرے خیر الراحمین خدا نے مجھے اپنے کلام پاک سے نوازا اور الہاماً فرمایا۔الَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ اس الہام الہی کی مجھے یہ تفہیم ہوئی کہ کیا قرآن کے حقائق ومعارف کے لئے ہم نے تیرے سینہ کو انشراح نہیں فرمایا۔چنانچہ اس الہام کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے قرآن پاک کی تعلیم و تفہیم کے لئے ایسا انشراح عطا فرمایا ہے کہ ایک زمانہ گواہ ہے۔حضرت اقدس سیدنا مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک سے لے کر آج تک کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ کسی شخص نے قرآن مجید پر اعتراض کیا ہو اور اللہ تعالیٰ نے اسی وقت مجھے اس کے سوال کے کئی جوابات نہ سمجھا دیئے ہوں۔میرے ساتھ سفر کرنے والے اکثر علما ء سلسلہ جانتے ہیں کہ میں سفر میں قرآن مجید کے سوائے دیگر کتا بیں رکھنے کا عادی نہیں اور یہ خدا تعالیٰ کا سراسر فضل و احسان ہے کہ وہ ہمیشہ مجھے اسی کتاب اقدس کے ذریعہ سے ہر ایک