حیاتِ نور

by Other Authors

Page 63 of 831

حیاتِ نور — Page 63

ور ۶۳ ایک نو عمر عورت کی اپنے بوڑھے خاوند سے کمال وفاداری مکہ معظمہ میں جس شخص کے گھر میں آپ رہتے تھے وہ ایک بوڑھے شخص تھے اور مخدوم کہلاتے تھے۔ان کا اوپر بھی ذکر ہو چکا ہے۔ان کی بیوی بینظیر حسین اور بہت کم عمر تھی۔لیکن وہ اپنے ہاتھ سے کاغذ گھوٹ کر پیسے کما کر اپنے خاوند کے لئے نہایت ہی نرم غذا ابنایا کرتی تھی۔آپ فرماتے ہیں کہ میں اس کی اس خدمت کو دیکھ کر حیران رہ جاتا تھا۔اس لئے ایک دن میں نے اسے کہا کہ "تم کو اپنے حسن کی خبر بھی ہے۔اس نے کہا خوب خبر ہے اور میں اپنی اس خبر کی شہادت بھی دے سکتی ہوں اور وہ شہادت یہ ہے کہ مکہ کی تمام عورتوں کو دیکھ لو یہ اپنے رخساروں پر ایک داغ بناتی ہیں اور مجھ کو دیکھو میرے چہرہ پر کوئی داغ نہیں اور سارے شہر میں ایسی میں ہی ایک عورت ہوں۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ میں اپنے حسن کو پہچانتی ہوں۔جب عورتوں نے مجھے کو بہت مجبور کیا تو میں نے اپنے بالوں کے نیچے گردن پر داغ بنائے چنانچہ اس نے اپنے بال اُٹھا کر مجھے دکھائے۔میں نے کہا۔اب دوسرا سوال یہ ہے کہ مخدوم صاحب کی تم اس قدر خدمت کرتی ہو کہ میں دیکھ کر حیران ہو جاتا ہوں۔یہ نہایت ضعیف العمر آدمی ہیں اور تم نو عمر ہو۔کہنے لگی اگر یہ ضعیف العمر نہ ہوتے تو میں کیوں کا غذ گھوئی۔چونکہ خدا تعالیٰ نے میرے لئے یہ خاوند عطا کیا ہے تو میرا فرض ہے کہ ان کے ساتھ غمگسارانہ برتاؤ کروں۔مجھ کو معلوم ہوا اور بہت ہی پسندیدہ معلوم ہوا کہ نیکی اور نیک طینتی اس عورت میں بدرجہ اتم موجود ہے۔میں نے جب مخدوم صاحب سے پوچھا کہ آپ اس پر مطمئن ہیں تو انہوں نے کہا کہ میں اس کی راستبازی پر قسم اٹھا سکتا ہوں۔یہ بہت ہی غمگسار ہے۔اور جس طرح اس کا نام صادقہ ہے۔اسی طرح یہ واقعی صادقہ ہے"۔۹۳