حیاتِ نور — Page 725
۷۲۰ ــاتِ نُ الرحمان صاحب۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب۔حضرت قاضی امیر حسین صاحب۔میاں نجم دین صاحب اور مولوی غلام محمد صاحب و دیگر شاگردان حضرت موجود تھے۔پھر کفن پہنا کر جنازہ رکھ دیا گیا۔کوٹھی دار السلام میں مخلصین کا اجتماع اور واجب الاطاعت خلیفہ کے انتخاب کا فیصلہ حضرت بھائی عبدالرحمان قادیانی لکھتے ہیں: حضرت (مرزا محمود احمد صاحب۔ناقل ) نے اس سمجھوتہ کے ماتحت (جس کا اوپر ذکر ہو چکا ہے۔ناقل ) حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کو ایک فہرست دیکے حکم دیا کہ ان اصحاب کو رات کو کوٹھی دارالسلام میں جمع کرنے کا انتظام کیا جائے۔ساتھ دوستوں کے نام اس فہرست میں تھے۔رات کو اجتماع ہوا۔اور مشورہ ہو کر بالا تفاق یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک واجب الاطاعت خلیفہ کا انتخاب ہونا چاہئے اور پہلے خلیفہ کی تدفین سے پہلے ہونا چاہئے تا کہ خلیفہ ہی خلیفہ کا جنازہ پڑھے اور تجہیز وتدفین کا انتظام کرے۔اسی مجلس میں یہ بھی قرار پایا کہ رات کو تہجد میں دعائیں کی جائیں اور کل روزہ رکھ کر اس معاملہ کے لئے خاص طور سے دعائیں کی جائیں کہ اللہ کریم جماعت کو اپنے فضل سے اپنی رضا کی راہوں اور صراط مستقیم پر قائم رکھئے“۔ـور جنازہ میں شرکت کے لئے لاہور سے آنے والوں کا منظر گذشتہ صفحات میں حضرت بھائی عبدالرحمان قادیانی کے لاہور پہنچنے کا ذکر کیا جاچکا ہے۔اس کے آگے کے حالات بیان کرتے ہوئے آپ لکھتے ہیں : جمعہ کا دن تھا۔قادیان سکول کے طلبا ٹورنا منٹ میں شرکت کی غرض سے لاہور میں تھے۔وہیں نماز جمعہ ادا کی۔عصر کا وقت تھا کہ حضرت سیدنا ومولانا نورالدین صاحب کی وفات کا تار پہنچ گیا۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔دل اداس تھا۔چین تھا نہ قرار خبر سنتے ہی اسٹیشن پر پہنچا۔جہاں اسکے دکے احمدی احباب آ اور گاڑی کی انتظار میں جمع ہو رہے تھے بعض کے ہاتھوں میں ٹریکٹ تھا جسے وہ پڑھتے اور