حیاتِ نور — Page 724
ــور لیا تھا۔اور یہی طریق پہلے زمانہ میں تھا۔چھ ماہ انتظار نہ کبھی پہلے ہوا نہ حضرت مسیح موعود کے بعد۔مولوی محمد علی صاحب نے جواب دیا کہ اب اختلاف ہے پہلے نہ تھا۔دوسرے اس انتظار میں ہرج کیا ہے؟ اگر خلیفہ نہ ہو تو اس میں نقصان کیا ہوگا۔وہ کونسا کام ہے جو کل ہی خلیفہ نے کرنا ہے۔میں نے ان کو جواب دیا کہ حضرت مسیح موعود کی وفات پر جماعت اس بات کا فیصلہ کر چکی ہے کہ اس جماعت میں سلسلہ خلفاء چلے گا۔اس پر دوبارہ مشورہ کی ضرورت نہیں اور یہ سوال اب نہیں اٹھایا جاسکتا۔اگر مشورہ کا سوال ہے تو صرف تعیین خلیفہ کے متعلق۔اور یہ جو آپ نے کہا کہ خلیفہ کا کام کیا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خلیفہ کا کام علاوہ روحانی نگہداشت کے جماعت کومتحد رکھنا اور فساد سے بچانا ہے اور یہ کام نظر نہیں آیا کرتا کہ میں معین کر کے وہ کام بتادوں۔خلیفہ کا کام روحانی تربیت اور انتظام کا قیام ہے۔نہ روحانی تربیت مادی چیز ہے کہ میں بتا دوں کہ وہ یہ کام کرے گا۔اور نہ فساد کا کوئی وقت معین ہے کہ فلاں وقت تک اس کی ضرورت پیش نہ آوے گی۔ممکن ہے کل ہی کوئی امر ایسا پیش آجاوے جس کے لئے کسی نگران ہاتھ کی ضرورت ہو۔پس آپ اس سوال کو جانے دیں کہ خلیفہ ہو یا نہ ہو۔مشورہ اس امر کے متعلق ہونا چاہئے کہ خلیفہ کون ہو؟ اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ اس میں وقت ہے۔چونکہ عقاید کا اختلاف ہے اس لئے تعیین میں اختلاف ہو گا۔ہم لوگ کسی ایسے شخص کے ہاتھ پر کیونکر بیعت کر سکتے ہیں جس کے ساتھ ہمیں اختلاف ہو۔میں نے جواب دیا کہ اول تو ان امور اختلافیہ میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا اختلاف ہمیں ایک دوسرے کی بیعت سے روکے ( اس وقت اختلاف عقائد نے اس طرح سختی کا رنگ نہیں پکڑا تھا ) لیکن بہر حال ہم اس امر کے لئے تیار ہیں کہ آپ میں سے کسی کے ہاتھ پر بیعت کر لیں۔اس پر مولوی صاحب نے کہا کہ یہ مشکل ہے۔آپ سوچ لیں اور مشورہ کر لیں۔کل پھر گفتگو ہو جائے۔“ہے آپ کی تجہیز و تکفین عشاء کے قریب حضرت خلیفہ امیج کوحضرت مولوی شیر علی صاحب نے غسل دیا۔محترم مفتی فضل