حیاتِ نور — Page 721
21 لمبی دعا کے بعد ایک ایسی تجلی معلوم ہوتی تھی کہ بجلی کی طرح دلوں پر سکینت کا نزول ہوا۔دعا کے بعد بیٹھ گئے۔لوگوں میں ایک قبولیت اور جوش تھا۔فرمایا کہد و جو روزہ رکھ سکتے ہیں وہ کل روزہ رکھیں۔اس حکم اور ارشاد کے بعد آپ مسجد نور سے اٹھے اور نواب صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے۔۲۵۰ ابھی آپ مکان پر پہنچے ہی تھے اور حضرت خلیفہ اول کے پلنگ کے قریب بیٹھے تھے کہ دل میں دعا کی تحریک پیدا ہوئی۔چاہا کہ تنہائی اور علیحدگی میں کہیں باہر جا کر دعا کریں۔حضرت مولوی سرور شاہ صاحب سے فرمایا: طبیعت بہت گھبرائی ہوئی ہے۔میں تھوڑی دیر کے لئے علیحدہ ہونا چاہتا ہوں۔آپ ایسا انتظام کریں کہ دوست میرے پیچھے نہ آئیں۔“ مولوی صاحب نے عرض کیا میں لوگوں کو روک دوں گا۔آپ تشریف لے جائیں۔چنانچہ آ۔تنہا حضرت نواب صاحب کی کوٹھی سے جانب شرق سیدھے باغ میں سے ہوتے ہوئے جارہے تھے کہ ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب نے جو کہ اپنے ساتھیوں سمیت کوٹھی کے شمالی جانب لب سڑک کے کو ئیں پر کھڑے آپس میں مشورے کر رہے تھے، آپ کو باہر جاتے دیکھ کر ساتھیوں کو بتایا کہ وہ میاں صاحب جا رہے ہیں۔مولوی محمد علی صاحب کے ساتھ گفتگو چنانچہ مولوی محمد علی صاحب نے تیز اور جلد جلد چل کر پہلے مشرق اور مشرق سے جنوب کو کوٹھی سے شرقی جانب کی سڑک پر آ کر حضرت صاحب کو روک لیا اور اس وقت سے شام کی اذان تک دونوں اس سڑک پر شمالاً جنوباً ٹہلتے اور باتیں کرتے رہے حضرت بھائی عبدالرحمان صاحب قادیانی سے حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب نے فرمایا کہ میں کوٹھی اور ور انڈہ سے اور مولوی محمد علی صاحب کے رفیق شمالی کو ئیں سے دیکھتے رہے نہ میں ہی آگے بڑھا اور نہ وہ ہی آکر مخل ہوئے۔اذان سن کر دونوں اپنے اپنے راستے واپس ہوئے۔حضرت صاحب کی واپسی پر میں کچھ آگے بڑھا۔جس پر آپ نے فرمایا مولوی محمد علی صاحب کہتے تھے کہ آپ جانتے ہیں کہ جماعت میں اختلاف موجود ہے۔دو گروہ بن گئے ہیں۔اور کوئی بھی دوسرے کے ہاتھ پر جمع ہونے اور بیعت کرنے کو تیار نہیں۔اس لئے ہمیں