حیاتِ نور — Page 720
ـاتِ نُ ـور داء اور عاجزانہ التماس کریں۔کہ مولیٰ کریم ! تو ہی سچا راستہ دکھاتا کہ گمراہی اور تباہی میں پڑنے کی بجائے ہم تیرے قریب ہوں۔یہ بڑی ذمہ داری اور بوجھ ہے جس کو اٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں جب تک اسی کی نصرت نہ آوے ہم نہیں اٹھا سکتے۔بس اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ بار بار اور کثرت سے پڑھو۔ہم نہیں جانتے کل کیا ہوگا۔پرسوں کیا ہوگا۔ایک غیب کی بات پر ہاتھ مارتا ہے۔اگر غیب دان خدا مدد نہ کرے تو اندیشہ ہے ہلاکت میں پڑ جاویں۔اس لئے دعائیں کرو۔استغفار کرو۔استخارے کرو۔درود پڑھو۔تڑپ تڑپ کر دعائیں کرو کہ مولیٰ ! تو ہی اپنے فضل سے اس امتحان میں کامیاب کر۔تیرا مسیح آیا بہتوں نے انکار کیا اور وہ ٹھو کر کھا کے اس پتھر پر گرے اور ہلاک ہوئے۔مگر تو نے اپنے رحم سے ہمیں ہدایت دی۔پھر اس کی وفات پر ایک اور موقعہ امتحان کا آیا اور تو نے ہماری ہدایت فرمائی۔اب پھر ایک اور موقعہ آیا ہے۔اب بھی فضل کیجیو اور آپ ہماری راہنمائی کرو۔ہمارے تمام کاموں میں برکت نازل کیجیو۔دشمنوں کو خوش ہونے کا موقعہ نہ دیجیو۔اپنی خدمت کے لئے پاک وجود چن لے۔اللہم آمین۔سب لوگ اپنے دلوں میں چلتے پھرتے دعا ئیں کریں۔آج رات کو اٹھ اٹھ کر دعائیں کریں۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مشکلات حل کر دیتا ہے۔خدا تعالیٰ پر نے تو کل کرو۔اس کے وعدے بچے ہیں۔اس نے جو اپنے مسیح موعود سے وعدے کئے وہ پورے ہوئے اور ہوں گے۔ایک انسان جھوٹا وعدہ کر لیتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کے وعدے بچے ہوتے ہیں۔وہ صادق الوعد ہے۔خدا تعالیٰ کے وعدوں کی صداقت پر ایمان لائے اور اس پر توکل اور بھروسہ کرو۔اب میں بھی دعا کرتا ہوں۔تم بھی میرے ساتھ مل کر دعا کرو۔اور اس کے بعد بھی دعائیں کرو۔“ آگے الفضل نے نوٹ دیا ہے۔کہ اس تقریر کے بعد حضرت صاحبزادہ صاحب نے دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے مگر خدا جانے دعا میں کیا سوز اور ابتہال تھا۔کہ اس نے مسجد نور کو تھوڑی دیر کے لئے مسجد بکا بنا دیا۔کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ تھی اور دلوں میں ایک سوزش تھی۔بڑی