حیاتِ نور — Page 714
کی برداشت سے عاری اور بھی ہو چکی تھیں۔سائیکل پھینک ہاتھ اور پاؤں کے بل حیوانوں کی طرح سیٹرھیوں پر چڑھا۔ایک دوست سامنے نظر آئے۔سائیکل ان کو سونپ گاڑی میں جا بیٹھا۔لاہور پہنچ کر مکرمی حکیم محمد حسین صاحب کے متعلق معلوم کیا تو پتہ لگا کہ رات وہ گاڑی سے رہ گئے تھے آج صبح کستوری لے کر قادیان چلے گئے ہیں۔اس طرح واپسی کے لئے مجھے شام کی گاڑی کی انتظار کرتا پڑی ہے حضرت خلیفة المسیح الاول کی وفات ۱۳۰ مارچ ۱۹۱۴ء حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب ابھی لاہورہی میں تھے کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول قادیان میں وفات پاگئے فاناللہ وانا الیہ راجعون۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت خلیفہ المسیح الاول کی وفات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: آخر وہ دن آگیا جس سے ہم ڈرتے تھے۔۱۳؍ مارچ کو جمعہ کے دن صبح کے وقت حضرت خلیفہ اول کو بہت ضعف معلوم ہونے لگا اور ڈاکٹروں نے لوگوں کا اندر جانا منع کر دیا۔مگر پھر بھی عام طور پر لوگوں کا یہ خیال نہ تھا کہ وہ آنے والی مصیبت ایسی قریب ہے آپ کی بیماری کی وجہ سے آپ کی جگہ جمعہ بھی اور دیگر نمازیں بھی آپ کے حکم کے ماتحت میں پڑھایا کرتا تھا۔چنانچہ جمعہ کی نماز پڑھانے کے لئے میں مسجد جامع گیا۔نماز پڑھ کر تھوڑی دیر کے لئے میں گھر گیا اتنے میں ایک شخص خاں محمد علی خاں صاحب کا ایک ملازم میرے پاس ان کا پیغام لے کر آیا کہ وہ میرے انتظار میں ہیں اور ان کی گاڑی کھڑی ہے۔چنانچہ میں ان کے ہمراہ گاڑی میں سوار ہو کر ان کے مکان کی طرف روانہ ہوا۔ابھی ہم راستہ میں تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ہمیں اطلاع دی کہ حضرت خلیفہ اول صفوت ہو گئے ہیں اور اس طرح میری ایک پرانی رویا پوری ہوئی کہ میں گاڑی میں بیٹھا ہوا کہیں سے آرہا ہوں کہ راستہ میں مجھے حضرت خلیفۃ المسیح کی وفات کی خبر ملی ہے۔یہ خبر اس وقت کے حالات کے ماتحت ایک نہایت ہی متوحش خبر تھی۔حضرت خلیفہ اول کی وفات کا تو ہمیں صدمہ تھا ہی مگر اس سے خلیفہ تو تھاہی بڑھ کر جماعت میں تفرقہ پڑ جانے کا خوف تھا۔"