حیاتِ نور — Page 713
۷۰۸ مجھے تو یہ آواز آتی ہے كَلَّا بَلْ تُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ وَ تَذَرُونَ الْآخِرَةَ (ہرگز نہیں بلکہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور آخرت کو چھوڑتے ہو )‘۔اسے حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب قادیانی فرماتے ہیں: حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کو جو عشق و محبت سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے تھا۔اطاعت و فرمانبرداری اور فنائیت کا جو مقام ان کو میسر تھا۔اس سے بھی کہیں بڑھ کر حضرت محمود نے عشق و محبت ، خدمت و فنائیت اور اطاعت و فرمانبرداری کا نمونہ قائم کر دکھایا۔۳ ا ر مارچ ۱۹۱۴ ء کی صبح کو آپ دار السلام سے شہر آئے اور کچھ غیر معمولی فکر ، تشویش اور پریشانی کے اثرات آپ کے چہرہ سے عیاں تھے۔آپ جلد جلد ادھر ادھر آتے جاتے اور بعض ضروری کام سرانجام دیتے رہے۔فراغت کے بعد فرمایا: بھائی جی! آپ لاہور جا ئیں۔حکیم مجد حسین صاحب مرہم عیسی کو کل سے لاہور بھیجا ہوا ہے وہ ابھی تک کستوری لے کر نہیں لوٹے۔حضرت مولوی صاحب کی طبیعت بے حد کمزور ہے۔کستوری کی ضرورت ہے۔آپ جا کر لے آئیں۔میں نے عرض کیا۔حضور ! وقت اتنا تھوڑا ہے کوئی یکہ گاڑی پر نہیں پہنچا سکے گا اور نہ ہی دوڑ کر گاڑی کو پکڑا جائے گا۔کوئی سائیکل ہو تو میں انشاء اللہ انتہائی کوشش کرونگا۔فرمایا۔میں اپنا سائیکل لاتا ہوں۔آپ تیار رہیں۔گھر جا کر جلد جلد خود سائیکل لائے۔میں نے ہوا بھری اور خدا کا نام لے کر بٹالہ کو روانہ ہوا۔سڑک ہماری اس زمانہ میں اتنی خراب ، خستہ اور ریت سے اٹی پڑی تھی کہ آجکل کی سڑک اس کے مقابل میں پختہ کہلانے کی مستحق ہے۔میں نے پورا زور لگایا اور ساری طاقت خرچ کی۔باوجو دریت کی کثرت کے کہیں اترا نہ ٹھہرا اور چلاتا ہی چلا گیا۔تب جا کر میں خدا خدا کر کے اسٹیشن پر پہنچا۔گاڑی کھڑی تھی۔حالت میری یہ تھی کہ سائیکل سے اتر اتو ٹانگیں میرے جسم کے بوجھ