حیاتِ نور — Page 700
ـور ۶۹۵ بیماری کے ایام میں جبکہ بڑے بڑے مضبوط جسم ، صابر اور جری کہلانے والوں کے حوصلے پست ہو جاتے ہیں اور وہ واہی تباہی بکنے لگتے ہیں بلکہ پیروں فقیروں اور مشیخت کے مدعی گدی نشین بھی چڑ چڑا پن کا شکار ہو جاتے ہیں کبھی بیوی پر خفا ہورہے ہیں تو کبھی بچوں کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔نوکروں پر الگ برس رہے ہیں بلکہ معالج ڈاکٹر صاحبان کو بھی معاف نہیں کرتے۔سخت سریل مزاج ہو جاتے ہیں مگر آپ ہیں کہ سخت تکلیف کے باوجود بھی نہایت ہی متانت اور وقار سے لیٹے رہے اور جب بھی کسی نے مزاج ری کی تو ہمیشہ پہلے اللہتعالیٰ کا شکریہ اداکیا اور پھرمعالج ڈاکٹر صاحبان اور تیمارداروں کی تعریف کی اور کبھی کوئی شکوہ زبان پر نہ لائے اور جب بیماری سے ذرا افاقہ ہوا تو پھر وہی خندہ پیشانی ، خوش مزاجی اور پیار کی باتیں جو کہ حالت صحت میں آپ کا طرہ امتیاز تھا۔بلند حوصلگی اور ہمت بلند حوصلگی اور ہمت کا یہ حال تھا کہ محترم مرزا خدا بخش صاحب مصنف عسل مصفی “ کا بیان ہے ایک دفعہ وفات سے دو یا تین روز پہلے جبکہ ڈاکٹر صاحبان کھانا کھلانے کے لئے آئے اور ڈاکٹر صاحبان نے سخت ضعف محسوس کر کے عرض کیا کہ لیٹے لیٹے شور با پی لیں تو آپ نے کہا کہ مجھے اٹھا کر بٹھاؤ۔چنانچہ آپ کو حسب معمول بٹھایا گیا اور خاکسار گاؤ تکیہ آپ کی پیٹھ کے ساتھ لگا کر خود سہارا دے کر ے بیٹھ گیا تو آپ نے ڈاکٹروں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ علاج سے کچھ طاقت پیدا نہیں ہوئی اور میں بیٹھ نہیں سکتا مگر میں اس واسطے بیٹھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ تمہاری طرف سے مایوسی نہ ہو جائے“۔اس کس قدر بلند ہمتی اور وسیع الاخلاقی ہے کہ ایسی نازک حالت میں بھی ہمت نہیں ہاری بلکہ ڈاکٹروں کو امید دلا رہے ہیں کہ کہیں گھبراہٹ اور مایوسی کا شکار نہ ہو جانا میں خدا تعالیٰ کے فضل سے گھبرانے والا نہیں ہوں۔ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب کا حضور سے اخلاص ۱۹ / فروری ۱۹۱۴ء کو 10 بجے کے قریب حضور نے ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب سے فرمایا کہ آپ نے بہت تکلیف کی ہے اور آپ کا بہت نقصان ہوا ہے۔آپ کمانے والے آدمی ہیں۔مرزا