حیاتِ نور — Page 695
۶۹۰ پچھلے سال بعض نادانوں نے قوم میں فتنہ ڈلوانا چاہا اور اظہار حق “ نامی اشتہار عام طور پر جماعت میں تقسیم کیا گیا۔جس میں مجھ پر بھی اعتراضات کئے گئے۔مصنف ٹریکٹ کا تو یہ منشاء ہوگا کہ اس سے جماعت میں تفرقہ ڈال دے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی بندہ نوازی سے مجھے اور جماعت کو اس فتنہ سے بچالیا اور ایسے رنگ میں مدد اور تائید کی کہ فتنہ ڈلوانے والوں کے سب منصو بے باطل اور تباہ ہو گئے اور جماعت ہر ایک قسم کے صدمہ سے محفوظ رہی۔جس کا نمونہ اس سال جلسہ سالانہ کے موقعہ پر نظر آ رہا تھا۔یہ خدا تعالیٰ کی خاص تائید اور نصرت تھی کہ امسال باوجود بہت سے موانع کے اور باوجود اظہار حق جیسے بدظنی پھیلانے والے ٹریکٹوں کی اشاعت کے جلسہ پر لوگ معمول سے زیادہ آئے اور ان کے چہروں سے وہ محبت اور اخلاص ٹپک رہا تھا۔جو بزبان حال اس بات کی شہادت دے رہا تھا کہ جماعت احمد یہ ہر ایک بداثر سے محفوظ و مصون ہے۔علاوہ ازیں مختلف جماعتوں نے ایثار کا بھی اس دفعہ وہ نمونہ دکھایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا خاص فضل ثابت ہوتا ہے۔باوجود اس کے کہ اس سال چندوں کا خاص بوجھ تھا اور صدر انجمن مقروض ہو گئی تھی۔مختلف جماعتوں نے نہایت خوشی اور رضا د رغبت سے وہ سب قرضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا اور بہت سارو پید نقد بھی دیا حتی کہ پچھلے تمام سالوں کی نسبت اب کی دفعہ لگنے روپیہ کے وعدے اور وصولی ہوئی۔جس کی مجموعی تعداد اٹھارہ ہزار کے قریب ہے۔جو اس قلیل جماعت کی حالت کو دیکھتے ہوئے ایک خاص فضل الہی معلوم ہوتا ہے۔اس جلسہ نے ان لوگوں کے خیالات کو بھی باطل کر دیا جو کہتے تھے کہ نورالدین گھوڑے سے گر گیا ہے۔جب ایک دفعہ خلافت کے خلاف شور ہوا تھا تو مجھے اللہ تعالیٰ نے رویا میں دکھایا تھا کہ میں ایک گھوڑے پر سوار ہوں اور ایسی جگہ پر جا رہا ہوں۔جہاں بالکل گھاس پھونس نہیں ہے اور خشک زمین ہے۔پھر میں نے گھوڑے کو دوڑانا شروع کر دیا اور گھوڑا ایسا تیز ہو گیا کہ ہاتھوں سے نکلا جا رہا تھا۔مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے میری رانیں نہ ہمیں اور میں نہایت مضبوطی سے گھوڑے پر بیٹھا رہا۔دور جا کر گھوڑا ایک سبزہ زار میدان میں داخل ہو گیا۔جس