حیاتِ نور

by Other Authors

Page 694 of 831

حیاتِ نور — Page 694

ور ۶۸۹ تھا۔تبھی تو آپ اپنی ہر تقریر میں جماعت کو اتفاق اور اتحاد کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے اور خلافت کی اہمیت کو واضح فرماتے رہتے تھے اور اپنی وفات سے قبل جو وصیت آپ نے لکھی۔اسے ایک مجمع میں جناب مولوی صاحب موصوف سے تین بار پڑھوا کر سنا اور پھر اسے حضرت نواب محمد علی خاں صاحب کے حوالہ کر دیا کہ آپ کی وفات کے بعد جماعت اس پر عمل کر ہے۔مگر افسوس کہ جناب مولوی محمد علی صاحب کی استقامت میں فرق آ گیا اور انہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے ساتھ جو عہد و پیمان کئے تھے۔آپ کی وصیت کو پس پشت پھینک کر ان سے پھر گئے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون الحکم کا اجراء واحیاء اخبار الحام بعض وجوہ کی بناء پر کچھ عرصہ کے لئے بند ہوگیا تھا اور اس کا حضرت خلیفہ المسح اول کو بڑا اعلق تھا۔آپ نے اس کی پرانی خدمات کی قدر کرتے ہوئے جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ ء کے موقعہ پر احباب کے سامنے چھ ہزار روپیہ کی اپیل کی اور ایک ہزار روپیہ اپنی طرف سے بھی دینے کا وعدہ فرمایا اور اس کے مالی نظام کو مضبوط کرنے کے لئے اس کا انتظام حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے سپر دفرمایا۔چنانچہ اس کا پہلا پرچہ ۲۸ فروری ۱۹۱۸ء کو منظر عام پر آ گیا۔فالحمد للہ علی ذالک شکریہ باری تعالی از حضرت خلیفتہ المسیح الاول جیسا کہ پیچھے بیان کیا جا چکا ہے۔منکرین خلافت نے جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء سے قبل اظہار الحق نمبر1 اور اظہار الحق نمبر ۲ ، دوٹریکٹ نکال کر جماعت میں انتشار پیدا کرنے کی انتہائی کوشش کی تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے جماعت کو اس فتنہ سے بچالیا اور جماعت اپنے ایمان اور اخلاص میں پہلے سے بہت زیادہ ترقی کر گئی۔حضرت خلیفتہ المسح الاول نے جلسہ سالانہ ۱۹۱۳ء پر جب نظارہ دیکھا۔تو جلسہ کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل پر شکر یہ ادا کرتے ہوئے مندرجہ ذیل نوٹ لکھا: اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے لَئِنُ شَكَرُ ثُمَّ لَا زِيدَنَّكُمُ - اگر تم شکر کرو تو ہم اپنی نعمتوں میں ضرور بالضرور اور اضافہ کر دیں گے۔اس لئے خدا تعالیٰ کے انعامات پر شکر کرنا انسان کے لئے اور بہت سے الطاف کا موجب ہو جاتا ہے۔پس تحدیث نعمت الہی کے طور پر میں بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے ہم پر بہت سے احسان کئے ہیں۔