حیاتِ نور

by Other Authors

Page 687 of 831

حیاتِ نور — Page 687

Ar اور وہ فقرہ یہ تھا: نواب میر ناصر، محمود نالائق بے وجہ جوشیلے ہیں۔یہ بلا اب تک لگی ہے۔یا اللہ ! نجات دے۔آمین او پر کی عبارت اور اس فقرہ سے صاف ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ اسے اول نے ۱۳ مئی ۱۹۱۳ ء کو جو خط خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم کو لکھا۔یہ دونوں اقتباسات اسی خط میں سے لئے گئے ہیں۔پہلا اقتباس تو ما به النزاع ہے ہی نہیں۔غیر مبائعین حضرات کو بھی یہ امر مسلم ہے کہ خط خواجہ کمال الدین صاحب کو مخاطب کر کے لکھا گیا ہے اور انہیں اور ان کی پارٹی کو ان کی نا واجب حرکات کی وجہ سے ہدف علامت بنایا گیا ہے۔دوسرے نقرہ سے متعلق بھی ہمیں یقین کامل ہے کہ غیر مبائعین حضرات نے از راہ ظلم نا جائز اور نا واجب تصرف کر کے ہمارے امام سیدنا محمود ایدہ اللہ بنصرہ العزیز اور حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت میر ناصر نواب صاحب سے متعلق جماعت میں غلط تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔پہلے اقتباس میں آپ ان لوگوں کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: مجھے ابتداء آپ لوگوں نے دبایا۔مدت تک اس مصیبت میں رہا۔الخ دوسرے فقرہ میں بھی یقینا انہیں ہی کہا گیا ہے کہ تم نہ صرف یہ کہ مجھ پر بدظنیاں کرتے اور اتہامات لگاتے ہو۔بلکہ حضرت نواب محمد علی خاں صاحب، حضرت میر ناصر نواب اور حضرت محمود ایده اللہ بنصرہ العزیز پر بھی یہ الزام لگاتے ہو کہ وہ نالائق بے وجہ جوشیلے ہیں“۔میں نے جو استدلال کیا ہے کہ یہ فقرہ حضرت خلیفہ اول نے حکامیة عن الغیر لکھا ہے۔یہ بغیر کسی وجہ کے نہیں لکھا بلکہ اس کے میرے پاس دلائل ہیں۔اول یہ کہ حضرت خلیفہ المسیح اول ان حضرات ( حضرت صاحبزادہ صاحب سلمہ الرحمن ، حضرت نواب صاحب اور حضرت میر صاحب۔ناقل ) کی ہمیشہ ہی تعریف کرتے رہے ہیں اور آپ کے عہد کی تاریخ سے ثابت ہے کہ غیر مبائعین حضرات جس طرح حضرت خلیفہ المسیح اول کے مخالف تھے۔اس طرح سید نا حضرت محمود ایدہ اللہ حضرت نواب صاحب اور حضرت میر ناصر نواب صاحب کے بھی مخالف تھے۔اس لئے یہ بات قیاس میں بھی نہیں آسکتی کہ حضرت خلیفۃ المسیح اول ان حضرات کی شکایت خواجہ کمال الدین صاحب سے کریں۔دوم اس خط کا انداز بیان بتا رہا ہے کہ حضرت خلیفہ اول خواجہ صاحب اور ان کی پارٹی کی غیر