حیاتِ نور

by Other Authors

Page 682 of 831

حیاتِ نور — Page 682

ـور 966 کی اشاعت وہ پسند نہ کرتا ہو۔لیکن گمنام ٹریکٹوں کے لکھنے والے کی ابھی تک نشاندہی نہیں ہوئی۔لیکن اگر اس بات پر غور کیا جائے کہ جو الزامات اس نے حضرت خلیفتہ المسیح الاول اور خاندان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر لگائے ہیں۔وہ وہی ہیں جو جناب خواجہ کمال الدین صاحب، جناب مولوی محمد علی صاحب اور ان کی پارٹی کے احباب لگایا کرتے تھے۔تو یہ امر آسانی سے سمجھ آسکتا ہے کہ اگر ان مشہور و معروف اصحاب میں سے یہ کسی نے نہیں لکھے تو ان کی مرضی اور مشورے سے انہی کی پارٹی میں سے ایک یا زیادہ لوگوں نے یہ ریکٹ ضرور لکھے ہیں۔اس امر میں ذرہ بھی شک وشبہ کی گنجائش نہیں۔اول اس لئے کہ پیغام صلح کے کارکنوں محمد منظور الہی صاحب اور مینجر پیغام صلح سید انعام اللہ شاہ صاحب نے ان ٹریکنوں میں لگائے گئے الزامات کی تائید و تصدیق کی۔حوالہ پہلے گزر چکا ہے۔دوم اس لئے کہ جب اس پارٹی کے سرکردہ ممبروں کو کہا گیا کہ اگر آپ لوگوں کا ان ٹریکٹوں کی تحریر اور اشاعت سے کوئی تعلق نہیں تو آپ لوگ ان کے مندرجات کے رد میں کچھ نہ کچھ ضرور لکھیں۔تو انہوں نے حیلوں بہانوں سے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔البتہ حضرت میر حامد شاہ صاحب کی خدمت میں جتنے سوالات لکھے گئے تھے انہوں نے ان کے جوابات لکھ دیئے اور یہی بزرگ ہیں جن کو بعد ازاں حضرت خلیفة المسیح الثانی ایدہ اللہ نصرہ العزیز کی بیعت کا شرف حاصل ہوا۔سوم الفضل میں محترم قریشی محمد عثمان صاحب ریلوے انجینئر کا ایک خط شائع ہوا تھا۔اس سے بھی اس امر کا پتہ چلتا ہے کہ ٹریکٹ انہی لوگوں کے ایماء سے لکھے گئے تھے۔محترم انجینئر صاحب لکھتے ہیں: " مجھے ابتداء میں مولوی محمد علی صاحب، ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب، ڈاکٹر محمد حسین صاحب و شیخ رحمت اللہ صاحب سے بہت حسن ظن تھا اور میں ان لوگوں کو سلسلہ کا نہایت معزز ومکرم رکن سمجھتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے بمبئی سے آکر احمد یہ بلڈنگس کو ایک نہایت مقدس مقام اور احمدیت کا مرکز سمجھ کر وہاں قیام کیا اور قریبا دو سال تک وہاں رہا۔مگر اتنے عرصہ کے قیام نے میرے خیالات کو بالکل بدل دیا اور میں احمد یہ بلڈ نکس کو احمدیت کے خلاف ایک خطرناک سازشی مقام سمجھنے لگا اور ان لوگوں کو حقیقتا سلسلہ کا دشمن یقین کرنے لگا۔کیونکہ لگاتار ایسے واقعات و مشاہدات ہوتے رہتے تھے کہ جن سے میری حسن ظنی بالکل کا فور ہو گئی اور مجھے ان لوگوں سے نفرت ہونی شروع ہوگئی۔اسی اثناء میں حضرت خلیفہ اول کا ایک خط ڈاکٹر محمد حسین کے نام میری نظر سے گزرا جس کا