حیاتِ نور — Page 678
ساتِ نُ ـور گزارتے ہیں۔مگر یہاں تو چھاتی قفس میں داغ سے اپنی ہے رشک باغ جوش بہار تھا کہ ہم آئے اسیر ہو اگر میں تبلیغ دین کے لئے کبھی باہر نکلتا ہوں تو کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو پھلانے کے لئے ، اپنی شہرت کے لئے اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کے لئے، اپنی حمایتیں بنانے کے لئے نکلتا ہے اور اس کا باہر نکلنا اپنی نفسانی اغراض کے لئے ہے اور اگر میں اس اعتراض کو دیکھ کر گھر بیٹھ جاتا ہوں۔تو یہ الزام دیا جاتا ہے کہ یہ دین کی خدمت میں کوتا ہی کرتا ہے اور اپنے وقت کو ضائع کرتا ہے اور خالی بیٹھا دین کے کاموں میں رخنہ اندازی کرتا ہے۔اگر میں کوئی کام اپنے ذمے لیتا ہوں تو مجھے سنایا جاتا ہے کہ میں حقوق کو اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہوں اور قومی کاموں کو اپنے ہاتھوں میں لینا چاہتا ہوں اور اگر میں دل شکستہ ہو کر جدائی اختیار کرتا ہوں اور علیحدگی میں اپنی سلامتی دیکھتا ہوں تو یہ تہمت لگائی جاتی ہے کہ یہ قومی درد سے بے خبر ہے اور جماعت کے کاموں میں حصہ لینے کی بجائے اپنے اوقات کو رائگاں گنواتا ہے۔مگر مجھے جاننے والے جانتے ہیں کہ میں عام انسانوں سے زیادہ کام کرتا ہوں۔حتی کہ اپنی صحت کا بھی خیال نہیں رکھتا۔مگر اسے جانے دو۔مجھے تم خود ہی بتاؤ کہ وہ کونسا تیسرا راستہ ہے جسے میں اختیار کروں۔خدا کے لئے مجھے اس طریق سے آگاہی دو۔جس پر ان دونوں راستوں کو چھوڑ کر میں قدم زن ہوں۔للہ مجھے وہ بیل بتاؤ جسے میں اختیار کروں۔آخر میں انسان ہوں۔خدا کے پیدا کئے ہوئے دو راستوں کے علاوہ تیسرا راستہ میں کہاں سے لاؤں۔صبح شام ، رات دن، اٹھتے بیٹھے یہ بات سن سن کر میں تھک گیا ہوں۔زمین باوجود فراخی کے مجھ پر تنگ ہوگئی ہے اور آسمان باوجود درفعت کے میرے لئے قید خانہ کا کام دے رہا ہے اور میری وہی حالت ہے کہ ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْأَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمُ انْفُسُهُمْ وَظَنُّوا أَن لَّا مَلْجَا مِنَ اللَّهِ إِلَّا الیه افسوس کہ میرے بھائی مجھ پر تہمت لگاتے ہیں اور میرے بزرگ مجھ پر