حیاتِ نور

by Other Authors

Page 672 of 831

حیاتِ نور — Page 672

ات نور کے سلسلہ میں مجھے روپیہ کی اشد ضرورت ہے۔اپنے سونے کے کڑے بھیجد و شیخ عبداللطیف صاحب فرماتے ہیں کہ میرے پیغام لیجانے پر آپ کی زوجہ محترمہ نے ایک کڑا اتار کر مجھے دیدیا۔میں جب وہ کڑا لے کر آپ کی خدمت میں پہنچا۔تو آپ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اسے جا کر کہو کہ اگر بچے کی صحت چاہتی ہو تو دوسرا کڑا بھی فوراً اتار کر دیدو۔چنانچہ میرے پہنچنے پر انہوں نے دوسرا کڑا بھی اتار کر دے دیا۔اب قارئین کرام اندازہ لگائیں کہ ایسے پاک نفس اور غرباء کی ہمدردی میں گداز انسان کے متعلق کوئی نازیبا کلمہ زبان پر لانا کس قدر ظلم ہے۔(۲) حضرت میر محمد اسماعیل صاحب اسٹنٹ سرجن تھے اور اپنی ڈیوٹی پر سرسہ میں متعین تھے۔آپ صدر انجمن کے ممبر بھی تھے۔(۳) حضرت علامہ میر محمد اسحاق صاحب مولوی فاضل تھے اور مدرسہ احمدیہ میں پڑھاتے تھے۔مجھے افسوس ہے کہ ان پاک اور بے حد مصروف بزرگوں کو نکما کہہ کر معترض نے اپنے نامہ اعمال میں کوئی مفید اضافہ نہیں کیا۔گمنام ٹیکٹوں کا جواب دینے سے فارغ ہونے کے بعد اب ہم ان لوگوں کا ایک خط بھی ذیل میں درج کرتے ہیں۔جو انہوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی خدمت میں لکھا۔خط کے مندرجات اور طرز تحریر سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ خط بھی مذکورہ بالا ٹریکٹ لکھنے والے کے قلم سے ہی نکلا ہے۔واللہ اعلم بالصواب بہر حال وہ خط یہ ہے۔حضرت صاحبزادہ صاحب کے نام کھلا خط کھلا خط بنام مرزا محمود احمد صاحب سکنه قادیان- امید وار خلافت جناب من! السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاته میں عرصہ سے آپ کی تحریرات کو دیکھتا آیا ہوں۔مجھے نہایت افسوس ہے کہ آپ کی تحریرات میں روز بروز دق عظیم ہوتا جاتا ہے اور بعد وفات حضرت مسیح الثقلین علیہ الصلوۃ والسلام تمنائے خلافت آپ کو بہت بے چین کئے ہوئے ہے۔مگر جناب والا! معاف فرمائیے۔آپ نے محصول خلافت کے لئے جو ذریعہ اختیار کیا ہے۔وہ ہر گز اچھا نہیں کہا جا سکتا ہے۔بلکہ اس ذریعہ کے عمل