حیاتِ نور

by Other Authors

Page 661 of 831

حیاتِ نور — Page 661

اللہ اور اس کے رسول اور اپنے امیر وقت کی اطاعت کرو۔یہاں امیر کو نائب رسول ظاہر فرمایا ہے اور ساتھ ہی ہر وقت جماعت کے سر پر امیر کے وجود کو لابد اور ضروری قرار دیا ہے اور اسے صاحب حکم فرمایا ہے۔جس کی اطاعت قرآن و سنت کی روشنی میں ویسے ہی ہو جیسے اللہ اور اس کے رسول صلم کی قانون فطرت بھی اس پر شاہد ہے۔نظام شمسی کو لو۔تمام اجرام سماوی آفتاب سے منسلک ہیں۔مرکزی شخصیت کا وجود ائل ہے۔صحابہ کرام یا دیگر اسم کی سرگرمیوں پر نگاہ دوڑاؤ کہ وہ تمام ایک مرکزی وجود کی بدولت اور زیر قیادت آگے بڑھے۔ورنہ قرآن پاک آج بھی موجود ہے۔اس کے مطالب کی تشریح بھی واضح اور سب سے بڑھ کر یہ کہ نبی کریم صلعم کا اسوہ حسنہ بھی موجود۔مگر مسلمان پھر بھی تشتت و افتراق، ذلت و مسکنت کا شکار۔سب ایک ہی ہے۔جماعتی زندگی کا فقدان جو واجب الاطاعت امیر کے نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔میں افراد قوم سے التجا کرتا ہوں کہ وہ اپنی موجودہ حالت پر ٹھنڈے دل سے غور کریں۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ بسرعت تمام ترقی کریں۔تو وہ جماعتی زندگی کے بغیر ناممکن ہے اور جماعتی زندگی واجب الاطاعت امیر کے بغیر بے معنی بات ہے۔پس آؤ۔حضرت امیر ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے ہر ارشاد کی تعمیل اپنا وظیفہ حیات بنا ئیں۔اور تمام ایک ہی رنگ میں رنگین ہو کر خدا کے فرمودہ وعدوں کو حاصل کریں۔اطاعت امیر کے موضوع پر پہلے کتاب کے کسی حصہ میں جناب مولوی محمد علی صاحب کا ایک خطبہ بھی درج کیا جا چکا ہے۔جس میں آپ فرما چکے ہیں کہ : غور کر کے دیکھ لیجئے کہ اس کے بغیر ( یعنی اطاعت امیر کے بغیر۔ناقل ) کوئی نظام رہ سکتا ہی نہیں۔یہی اصول تھا۔جس نے حضرت ابو بکر، عمر، عثمان کے زمانہ میں فتوحات کے دروازوں کو کھول دیا تھا۔ہے اب ناظرین خود اندازہ لگالیں کہ کیا جب مولا نا محد علی صاحب اور ان کے ساتھی قادیان میں رہ کر خلافت اور انجمن کے تعلقات کی بحث میں اس امر پر زور لگا رہے تھے کہ خلافت محکوم اور انجمن حاکم ہونی چاہئے اور یہ کہ شخصی خلافت یا فرد واحد کی اطاعت سے پیر پرستی اور شخصی غلامی کا رنگ جھلکتا ہے۔