حیاتِ نور

by Other Authors

Page 610 of 831

حیاتِ نور — Page 610

۶۰۵ پڑھی ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھے رزق دیا ہے۔کیا تم سمجھتے ہو کہ عربی پڑھنے کے بعد خدا تعالی رزق نہیں دیتا؟ یہ سن کر میں بالکل خاموش ہو گیا اور اس کے بعد مجھے حضور کا درس سننے کا اتنا شوق پیدا ہوا کہ میں حضور کے ہر درس میں بڑے شوق اور جدو جہد سے شامل ہوتا“۔حضرت خلیفہ المسیح الاول کی ایک خواہش حضرت خلیفۃ المسیح اول کو چونکہ سب سے زیادہ مرغوب چیز درس قرآن تھا۔اس لئے آپ یہ چاہتے تھے کہ درس القرآن کے لئے ایک ہال تیار کر والیا جائے۔تا آئندہ ہمیشہ اسی میں درس ہوتا رہا کرے حضرت میر ناصر نواب صاحب کو جب حضور کی اس خواہش کا علم ہوا تو آپ نے اس کام کے لئے روپیہ فراہم کرنا اور ہال تعمیر کروانا اپنے ذمہ لے لیا۔مگر بجائے اس کے کہ کوئی الگ ہال تعمیر کروایا جائے۔حضرت کے مشورہ سے یہ طے پایا کہ موجودہ مسجد اقصیٰ میں ہی ایک بڑا کمرہ تیار کر والیا جائے جو درس کے کام بھی آسکے اور نمازی بھی اس میں آرام سے نماز پڑھ سکیں چنانچہ اس فیصلہ کی تعمیل میں حضرت میر صاحب موصوف نے وہ ہال کمرہ بنوا دیا۔فجزاہ اللہ احسن الجزا تعمیرات کا کام چونکہ حضرت میر صاحب موصوف ہی کے ذمہ تھا اور چندہ بھی آپ خود ہی جمع کیا کرتے تھے۔اس لئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری کا ایک بیان درج کر دیا جائے۔روپیہ حاصل کرنے کا گر حضرت حافظ صاحب موصوف فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت میر ناصر نواب صاحب مسجد مبارک میں چندہ کی ایک فہرست لئے تشریف لائے اور حضرت خلیفہ اول کے حضور میں پیش کی۔اور عرض کیا کہ حضور اس پر چندہ لکھ دیں۔حضور نے فرمایا کہ میر صاحب ! ہم آپ کو روپیہ حاصل کرنے کا گر یا پیہ فرمایا کہ ایک ترکیب بتائیں۔میر صاحب نے عرض کیا کہ حضور! میں گر نہیں سیکھنا چاہتا۔چندہ چاہتا ہوں۔اس پر آپ نے ایک رقم لکھ دی اور فر مایا کہ ہم انشاء اللہ فلاں روز یا فلاں تاریخ یہ رقم ادا کر دیں گے۔چند دن گزرنے کے بعد مسجد مبارک میں ہی دیکھا گیا کہ چٹھی رساں آ رہا ہے اور