حیاتِ نور

by Other Authors

Page 597 of 831

حیاتِ نور — Page 597

ـور ۵۹۲ انجمن کے سیکریٹری تھے۔یہ چاہتے تھے کہ تمام اختیارات انجمن کے پاس رہیں۔خلیفہ اگر ہو تو برائے نام ہو۔انتظامی امور میں اسے بالکل کوئی عمل دخل نہ ہو۔مگر جیسا کہ بتایا جا چکا ہے یہ راہ بڑی خطرناک تھی اور جماعت کے نظام کو پراگندہ اور درہم برہم کرنے والی تھی۔اور منشاء الہی کے بھی خلاف تھی تبھی انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی۔اب اس صورت حال کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ یا تو یہ لوگ الہی فیصلہ کو قبول کر کے خاموش ہو جاتے اور یا پھر فتنہ و فساد برپا کر کے اس نظام کو درہم برہم کرنے کی کوشش کرتے۔انہوں نے آخری طریق اختیار کر لیا۔حضرت خلیفتہ المسح الاول بڑے رحیم کریم انسان تھے۔اگر چاہتے تو انہیں جماعت سے خارج کر کے اس فتنہ کو اٹھتے ہی دبا دیتے۔مگر ان کی سابقہ خدمات کو مد نظر رکھ کر آپ چشم پوشی اور درگزر سے کام لیتے رہے۔یہ لوگ بھی جب بارگاہ خلافت سے جھاڑ پڑتی۔معافی مانگ کر وقت گزار لیتے۔ایک مرتبہ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔جناب خواجہ کمال الدین صاحب اور جناب مولا نا محمد علی صاحب کو دوبارہ بیعت بھی کرنی پڑی۔بہر حال حضرت خلیفۃ المسیح کا رعب ، جلال اور دبدبہ اس قسم کا تھا کہ یہ لوگ سامنے کھڑے ہو کر مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔مگر انہوں نے اپنی کاروائیوں کو برابر جاری رکھا۔۱۹۱۳ء میں جب ان کا اخبار ”پیغام صلح نکلنا شروع ہوا۔تو انہوں نے عقائد کی جنگ بھی چھیڑ دی۔اور کھلم کھلا قادیان کی جماعت پر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔جس کا ذکر انشاء اللہ اپنے موقع پر آئے گا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے جدہ اور مکہ بے خطوط حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے حج پر جانے کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے۔آپ نے جو خطوط جدہ اور مکہ سے قادیان میں لکھے ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت میر ناصر نواب صاحب انہیں جدہ میں مل گئے تھے۔ان خطوط کے اقتباسات ذیل میں اس لئے درج کئے جاتے ہیں۔تا معلوم ہو کہ آپ نے اس سفر میں جماعت احمدیہ اور اسلام کی ترقی کے لئے کس قدر دعائیں کی ہیں۔پہلے خط میں آپ لکھتے ہیں: خدا کے فضل سے مصر سے ہو کر احرام کی حالت میں جدہ پہنچ گئے ہیں۔اللہ اللہ کیا پاک ملک ہے۔ہر چیز کو دیکھ کر دعا کی توفیق ملتی ہے۔خدا کی رحمتیں اس زمین پر بیشمار ہی معلوم ہوتی ہیں۔احباب قادیان کے لئے ، احمدی جماعت کے لئے اور حالت اسلام کے لئے اس قدر دعاؤں کی توفیق ملی ہے کہ بیان نہیں ہو سکتی۔میں نے احمدی جماعت کے لئے اس سفر میں اس قدر دعائیں کی ہیں کہ