حیاتِ نور

by Other Authors

Page 561 of 831

حیاتِ نور — Page 561

اتٍ نُ ـور ۵۵۶ گھوڑے سے گرنے کے باعث چوٹ کا اثر ، ۲۹ اپریل ۱۹۱۲ء ایک شخص نے آپ کی صحت کا حال بذریعہ چٹھی دریافت کیا۔تو آپ نے ۲۹ اپریل ۱۹۱۲ء کو اسے مندرجہ ذیل جواب لکھوایا: میں جب سے گھوڑے سے گرا ہوں۔تب سے اس کے اثر سے دائیں طرف ،، کچھ نہ کچھ نقصان چلا آتا ہے۔" ہماری دولت ایک دوست کا خط پیش ہوا کہ میں مبلغ تین سو روپے کا مقروض ہوں اور قرضہ کے سبب لاچار ہوں۔میری امداد فرمائی جاوے۔اور ایک کا نام لکھا کہ اس سے مجھے قرضہ لے کر دیا جاوے۔حضور نے اس خط کو لے کر اپنے دست مبارک سے اس پر ایک دعا لکھی اور فرمایا اس کو لکھد و کہ ہمارے پاس تو یہ دولت ہے اس کو لے لو۔اور اس کے ساتھ خود خط و کتابت کرو وہ دعا فائدہ عام کے واسطے معہ ترجمہ درج ذیل کی جاتی ہے۔اللَّهُمَّ اِنّى اَعُوذُبِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحُزْنِ وَاَعُوذُبِكَ مِنِ الْعَجْزِ و۔الْكَسَلِ وَاَعُوذُبِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهرِ الرِّجَالِ۔اَللَّهُمَّ اكْفِنِي بِحَلَالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَ اغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمَّنْ سِوَاكَ ط ترجمہ: اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں فکر اور غم سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں ناتوانی اور ستی سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں نامردی اور جل سے اور تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے سے اور لوگوں کے دباؤ سے۔الہی کفایت کر مجھ کو اپنی حلال روزی سے اور بے پرواہ کر مجھے کو اپنے فضل کے ساتھ اپنے ماسوا سے کالے ایک اچھے طبیب کی علامت ، ۱۱ جون ۱۹۱۲ء ارجون ۱۹۱۲ء کو ساڑھے گیارہ بجے ایک مریض سے فرمایا کہ ہر پیشہ میں میعاد کو دخل ہے۔ایک معمار کہہ سکتا ہے کہ میں مکان اتنے دنوں میں تیار کر دوں گا۔ایک کلرک کہہ سکتا ہے کہ میں اتنے دنوں میں اس رجسٹر کی خانہ پری کر دوں گا۔ایک درزی کہہ سکتا ہے کہ میں اتنے دنوں میں کپڑ اسی کر تیار