حیاتِ نور — Page 527
ـور ۵۲۲ کرنا چاہتا تھا۔مگر میں نے ان کی قبر پر کبھی کسی مطلب کی دعا نہیں کی۔نہ کرنی جائز ہے۔یہ سخت گناہ اور شرک ہے۔اللہ تعالیٰ تمہیں اس سے بچاوے“۔اسکے ایک ایمان افروز واقعہ اب ہم حضرت خلیفہ المسیح اول کے زمانہ کا ایک ایمان افروز واقعہ درج کرتے ہیں چونکہ۔کی صحیح تعین نہیں ہو سکی۔صرف ایک صاحب نے بتایا ہے کہ سلام کا واقعہ ہے۔اس لئے انداز ایہاں ہی بیان کیا جاتا ہے۔محترم شیخ عبد اللطیف صاحب بٹالوی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ حضرت خلیفۃ المسیح کی خدمت میں مولوی غلام محمد صاحب امرتسری حاضر ہوئے اور عرض کی کہ ”دار الضعفا اور سکول میں غریب طالبعلم جو غالبا مالا بار کے تھے۔ان کے پاس سردی سے بچنے کے لئے کپڑے نہیں۔حضور نے فرمایا۔ہم ابھی دعا کرتے ہیں۔چنانچہ دعا شروع فرما دی۔دوسرے یا تیسرے دن اٹلی کے اعلیٰ قسم کے کمبل آنے شروع ہو گئے۔اور جوں جوں آتے حضور تقسیم فرما دیتے۔جب نواں یار گیارہواں تمبل آیا۔تو آپ کی اہلیہ محترمہ حضرت اماں جی کو یہ کمبل بہت ہی پسند آیا اور عرض کی کہ یہ کمبل تو ہم نہیں دینگے۔حضرت نے مسکرا کر فرمایا کہ آج اکیس کمبل آنے تھے۔مگر اب نہیں آئیں گے۔چنانچہ اس کے بعد کوئی کمبل نہیں آیا۔محترم قریشی ضیاء الدین صاحب ایڈووکیٹ نے بیان کیا کہ ساتواں یا نواں کمبل تھا۔حضرت اماں جی نے رکھ لیا تھا۔جس پر حضرت خلیفہ المسیح الاول نے فرمایا کہ اگر تم نہ لیتیں تو آج ۱۸ کمیل آتے۔مگر اب نہیں آئیں گے۔مولوی عبد الوہاب صاحب عمر الفضل مورخہ 9 ارمئی ۴۹ء میں لکھتے ہیں۔حضرت اماں جی حرم حضرت خلیفہ اول نے مجھے بتایا کہ ایک روز حضرت خلیفہ اول کے پاس ایک کشمیری دھہ ( کمبل ) آیا۔آپ نے وہ کمبل کسی ضرورتمند کو دیدیا۔اس روز کئی کمیل آئے۔اور سب کے سب آپ نے تقسیم کر دیئے۔ایک کمیل آیا تو مجھے خیال آیا کہ گھر کے لئے بھی ایک کمبل رہنا چاہئے۔میں نے کہا یہ کمبل آپ کسی کو نہ دیں۔آپ نے وہ کمبل مجھے دے دیا اور فرمایا کہ ہم تو اپنے مولیٰ سے سودا کر رہے تھے۔وہ بھیجتا تھا اور ہم کسی حاجتمند کو دیدیتے تھے۔تم نے ہمارا سودا خراب کر دیا۔اب کوئی کمیل نہ آئے گا۔چنانچہ اس کے بعد وہ سلسلہ بند ہو گیا“ کے