حیاتِ نور — Page 525
ـور ۵۲۰ اٹھا رکھا ہے۔جس طرح چھوٹے بچوں کو مشک بناتے ہوئے اٹھاتے ہیں۔پھر میرے کان میں کہا تو ہم کو محبوب ہے۔۔استاد ہوں تو ایسے فرمایا: 66 قبولیت دعا کے بھی عجیب در عجیب رنگ ہیں۔میرے ایک استاد تھے۔جن کا نام تھا حکیم علی حسین صاحب۔میں ایک دفعہ انہیں ملنے گیا۔اس وقت میری ماہوار آمدنی ایک ہزار روپے تھی۔مگر جیسے میری عادت ہے۔میرا لباس سادہ تھا۔بلکہ کچھ میلا بھی تھا مجھے دیکھ کر گھبرائے۔اور کہنے لگے کہ میں جو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگا کرتا ہوں۔ان کی قبولیت کے نشان میں ایک یہ دعا بھی مانگا کرتا ہوں کہ میرا کوئی شاگرد ذلیل نہ ہو۔اور اس کی آمدنی ایک ہزار روپے ماہوار سے کم نہ ہو۔تمہاری کیا حالت ہے؟ میں نے اپنی اصل حالت کا اظہار کیا۔تب ان کی تشفی ہوئی۔مکہ میں دعا فرمایا: 'جب ہم سیج پر گئے۔تو ہم نے ایک روائیت سنی ہوئی تھی کہ مکہ میں جو شخص دعائیں مانگے۔اس کی ایک دعا ضرور قبول ہوتی ہے۔یہ روایت تو چنداں قوی نہیں۔تاہم جب ہم دعا مانگنے لگے۔تو ہم نے یہ مانگا۔یا الہی میں جب مضطر ہو کر کوئی دعا تجھ سے مانگوں تو اس کو قبول کر لینا۔19 نا جائز سوال فرمایا: ایک شخص نے ہم سے سوال کیا کہ جتلاؤ خدا کی شکل کیا ہے؟ اور اس کی رنگت کیا ہے؟ میں نے کہا اچھا۔پہلے تم یہ جتلاؤ کہ تمہاری آواز کی شکل کیا ہے اور تمہاری قوت ذائقہ کی کیا صورت ہے؟ اور تمہاری بینائی کی کیا رنگت ہے؟ اس نے کہا۔یہ تو ہم نہیں بتا سکتے۔لیکن ان چیزوں کا کم از کم مقام تو معین ہے۔میں نے کہا