حیاتِ نور — Page 493
۴۸۹ حيـ نتیجہ ہوتا ہے۔جو انسان حقوق شناسی نہ کرے۔مگر اللہ تعالیٰ نے رحم فرمایا۔ان کے دلوں کی آپ اصلاح کر دی۔اور دل اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں تھے۔اس نے سب کو میرے ساتھ ملا دیا۔اور ان پر اور ہم پر ہماری قوم پر رحم اور احسان ہو ا۔غرض ایک یہ یاد رکھو کہ تنازعہ نہ ہو۔نہ آپ کرو نہ ماتحتوں کو کرنے دو۔اللہ تعالیٰ نے ایسے موقعہ پر صبر کی تعلیم دی ہے۔دوسرے بعض جگہ کثرت سے لوگ ہیں۔وہاں میں دیکھتا ہوں کہ ترقی رک گئی ہے۔اس کا کوئی مخفی راز ہے میں اس کو جانتا ہوں۔اس کی تلافی دو طرح ہو سکتی ہے۔ایک یہ کہ پریزیڈنٹ اور سیکریٹری اللہ تعالیٰ سے رو رو کر دعائیں کریں۔آپ جانتے ہیں کہ سورج اور چاند گرہن پر مسلمانوں کے ہاں نماز پڑھی جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سورج گرہن اور چاند گرہن ہوتا تو گھبرا جاتے۔حالانکہ وہ جانتے تھے کہ قرآن کریم میں ہے۔وَالْقَمَرَ قَدْرُنَاهُ مَنَازِلَ مگر وہ بہت گھبراتے تھے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ جانتے تھے کہ سورج روشن تو رہتا ہی ہے۔مگر روشنی زمین پر نہیں آتی۔اس طرح چاند کی روشنی رک جاتی ہے۔چاند گرہن ۱۳ ۱۴، ۱۵ تاریخ کو ہوتا ہے اور سورج گرہن ۲۷، ۲۹،۲۸ کو۔باوجود اس علم کے کہ سورج اور چاند روشن ہیں۔پھر ان کی روشنی رک جاتی ہے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت گھبراتے۔اس لئے کہ میں تو مبلغ ہوں۔کہیں میری تبلیغ کا اثر نہ رک جائے۔اس لئے صدقہ کرتے۔قربانی دیتے۔دعائیں کرتے۔غلاموں کو آزاد کرتے۔احمق فلاسفرز اس تیسر کو نہیں سمجھتے۔مگر نبی جانتا ہے کہ وہ اپنی ذات میں روشن ہے۔ایسا نہ ہو کہ آفتاب و ماہتاب کی طرح ہماری روشنی اور اثر بھی رک جاوے۔اس لئے وہ صدقہ و خیرات اور دعاؤں سے کام لیتے۔پس خوب یا درکھو کہ جہاں جماعت کی ترقی رک گئی ہے۔وہاں پریذیڈنٹ اور سیکریٹری صاحبان وضو کریں۔نماز پڑھیں اور اپنی ذات سے صدقہ و خیرات کریں کہ جناب الہی خود اس گرہن کو دور کر دے اور اس روک کو اٹھا دے جو ان کے اثریہ